مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش ہے، طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لاہور میں جاری اپنے ایک بیان میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزرا کی مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش ہے، عالمی برادری اسرائیل کی ان حرکات کا نوٹس لے، مسجد الاقصیٰ کی حیثیت بدلنے کے اسرائیلی عزائم تباہ کن تشدد کو جنم دے سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش ہے۔ لاہور میں جاری اپنے ایک بیان میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ مسجد الاقصیٰ کی حیثیت بدلنے کی اسرائیلی کوششیں دنیا کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے، اسرائیلی وزراء کی جانب سے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی نا قابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی اقدامات اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت ہیں، اسرائیلی وزراء اور یہودیوں کی طرف سے مسجدالاقصیٰ کی بےحرمتی کی مذمت کرتے ہیں۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزرا کی مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی مسلمانوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کی سازش ہے، عالمی برادری اسرائیل کی ان حرکات کا نوٹس لے، مسجد الاقصیٰ کی حیثیت بدلنے کے اسرائیلی عزائم تباہ کن تشدد کو جنم دے سکتے ہیں۔ طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری اسرائیل کا فوری محاسبہ کرے، اسرائیلی اقدامات اقوام متحدہ اور او آئی سی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، عالمی ادارے فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مسجد الاقصی کہنا تھا کہ
پڑھیں:
ایرانی حملوں کا خوف؛ اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا کی جانب دوڑ؛ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پیر کے روز امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ منگل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کریں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات منگل کو ہوگی جبکہ اسی روز ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی تدفین کی تقریب بھی منعقد ہوگی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو اپنے دورے کے دوران امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کریں گے۔ جنھیں اسرائیل کے مضبوط حامی امریکی سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یا ہو کی فروری کے آخر سے شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی اور ایران کے ساتھ حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی دونوں قائدین پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے یہ نہیں بتایا کہ نیتن یاہو اپنے دورۂ امریکا کے اختتام پر کب اسرائیل واپس لوٹیں گے تاہم سفارتی حلقے اس ملاقات کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسرائیل کو بھی براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور ممکنہ خطرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
توقع ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات میں ایران کی صورتحال، خطے کی سکیورٹی، اسرائیل کی دفاعی ضروریات، غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورت حال اور امریکا-اسرائیل اسٹریٹجک تعاون سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔