Juraat:
2026-07-24@11:00:42 GMT

ایک اور اسرائیل بسانے کی سازش

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

ایک اور اسرائیل بسانے کی سازش

آواز
۔۔۔۔۔
ایم سرورصدیقی

ظلم، استحصال اور ریاستی جبر چھٹے سال میں داخل ہوگیا۔ 5اگست2019ء کو جب مودی سرکارنے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیاتو دنیا بھر میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی کیونکہ ا س بھارتی کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر بھارتی یونین کا علاقہ تصور ہو گا۔ لداخ کو مقبوضہ کشمیر سے الگ کر دیا گیا ۔یہ قدم اسرائیلی طرز پر کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کیلئے اٹھایا گیا تھا۔ بلاشبہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا کالا قانون نافذ کرکے جنوبی ایشیاء کا مستقبل تاریک کرڈالا، جس سے خطے کا امن خطرے میں ہے ۔یہ مسئلہ اتنا حساس ہے کہ تیسری عالم گیر جنگ کا پیش خیمہ بن سکتاہے ۔ مقبوضہ وادی کے مسلمانوں کے استحصال پر ہرسال 5اگست بھارتی اقدام کے خلاف پاکستان ،آزادکشمیر،لندن ،کنیڈا سمیت دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف ا حتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں لیکن عالمی برادری کے کانوں پرپر آج تک کوئی جوں تک نہیں رینگی۔ یہ منافقت کی بدترین مثال ہے ۔
حقائق بتاتے ہیں جب بھارتی پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ آرٹیکل 35 اے اور 370 منسوخ کرنے کا شوشہ چھیڑا گیا تھا ، اس وقت بھی بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان نے ماننے سے انکار کر دیا تھا جس پر اجلاس کے دوران اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال داؤ پر لگانے پر شدید احتجاج کیا، اپوزیشن رہنماوں نے ا سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے ۔ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ہار دیکھتے ہوئے صدارتی حکم نامے کے ذریعے نئے کالے قانون پر عملدرآمد کروا دیا تھا۔ اس ریاستی جبر کے بدترین نتائج سامنے آرہے ہیں۔ حالانکہ آرٹیکل 35اے ، بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کا حصہ تھا جس کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔ آرٹیکل 35اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جاتا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو ،کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا اور نہ ہی یہاں کی مستقل شہریت حاصل کر سکتا تھا اور نہ ہی ملازمتوں کا حقدار تسلیم کیا جاتا تھا۔ یہی آرٹیکل 35اے جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت تھا، اسے منسوخ کرنے کا مطلب بھارت کی جانب سے کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کرنا ہے ۔آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف 3 ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے پاس تھے جن میں سیکورٹی، خارجہ امور اور کرنسی شامل ہیں۔ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے پاس تھے ۔
بھارت اب کشمیریوں کی جداگانہ پہچان ختم کرکے متنازع علاقے میں غیر کشمیریوں کو بسارہاہے ۔اس لئے آج تک تمام کشمیری بھارت کے اس نظرئیے کی مذمت کرتے رہے ہیں۔اس آرٹیکل کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے ان قرار دادوں کی رہی سہی اہمیت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے جن کے مطابق جموں کشمیر کو متنازع قرار دیا گیا تھا اور پاکستان اور بھارت کو کہا گیا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا ماحول کرائی جائے ۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کی ایک شق کے علاوہ تمام شقیں اور آرٹیکل 35 اے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو تقسیم کر دیا گیا، جموں و کشمیر کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی، لداخ بغیر قانون ساز اسمبلی کے وفاقی علاقہ ہوگا۔جموں و کشمیر ریزرویشن بل 2019ء کے ذریعے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو بھی ختم کردیا ہے ۔ اس آرٹیکل کے تحت کشمیریوں کو کچھ حقوق حاصل تھے اور اس کے ختم ہونے سے اب کشمیری ان چند حقوق سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔خدشہ ہے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر اب بھارتی یونین کا حصہ کہلائے گا، جموں و کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔
بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ اس دفعہ کے تحت مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں ممنوع ہے ۔ آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ صنعتی کارخانے اور ڈیم کے لیے اراضی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔دفعہ 370اور 35اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ اس طرح درحقیقت مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت ایک نیا اسرائیل بسانے کی سازش کررہی ہے کیونکہ مودی چاہتا ہے سری نگر اور لداخ پر 35اے اور 37لاگو کرکے براہ راست دہلی کے زیر تسلط لے آئے جو پاکستان اور دنیابھر میں بسنے والے کشمیریوں کیلئے ناقابل قبول ہے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے سچ کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈرشپ کا دو قومی نظریہ کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا ۔بھارتی حکومت کا آئین سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا یک طرفہ، جانبدرانہ اور خودساختہ فیصلہ ہی نہیں بلکہ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی بھی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی کو ایک ‘قابض فورس’ میں تبدیل کردے گا۔ بھارتی فیصلے سے برصغیر سے تباہ کن نتائج ہوں گے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوگیا جبکہ بھارتی حکومت کے ارادے صاف ظاہر ہیں، وہ چاہتے ہیں مقبوضہ کشمیر کی عوام خوف و ہراس کا شکار ہو جائیں اس بھارتی اقدام سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے ، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار وادی ٔ کشمیر میں آباد ہوجائیں گے ، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے جس سے کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔بھارت کے آئین کی دفعہ 370کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے ۔ آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ صنعتی کارخانے اور ڈیم کے لئے اراضی بھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی،علاقائی، معاشرتی، آ دیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، قائد اعظم محمدعلی جناح کے اس فرمان پر ہر پاکستانی کٹ مرنے کو تیار ہے ، جو ہماری شہ رگ اور قومی عزت وغیرت پر ہاتھ ڈالنے کی حماقت کرے گا، وہ بھیانک انجام سے دوچار ہوگا،کشمیر کاز کے لئے پاکستانی یک آواز اور متحد ہیں کشمیر کی خود مختار حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے کیونکہ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے باقاعدہ اعلان جنگ کردیا ہے ، جس شق کو نہرو ختم نہ کرسکا، اسے مودی نے ختم کرکے بتادیا کہ بھارت اشتعال انگیز ریاست ہے یہ ریاستی دہشت گردی کا بین ثبوت ہے اب ضروری ہوگیاہے کہ عالم ِ اسلام کروڑوں مسلمانوں کو بھارتی ظلم، استحصال اور ریاستی جبر سے نجات دلانے کے لئے کشمیر کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی تیارکریں مقبوضہ وادی اور پاکستان کے کروڑوں عوام بانگ ِ دہل اعلان کرتے ہیں کہ بھارت سن لے ! پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ مقبوضہ وادی میں ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے کا وقت آگیا ہے عالمی ضمیر اگر آج سورہاہے تو یقینا کل ہر باضمیر بول اٹھے گا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت ملنا چاہیے ۔ حکومت ِ پاکستان نے ہر سال 5اگست کو یوم ِ استحصال منانے کااعلان کیاہے کشمیری مسلمانوں نے ببانگ ِ دہل کہاہے ہماری اگلی منزل سری نگرہے جہاں کی جامع مسجدمیں ہم جمعہ کی نماز پڑھیں گے۔ اللہ ان کی زبان مبارک کرے !
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مقبوضہ کشمیر کی کے تحت مقبوضہ جموں کشمیر کو کشمیریوں کے خصوصی حیثیت کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں بھارتی ہوجائیں گے ہوجائے گی آرٹیکل کے حیثیت ختم آرٹیکل 370 ختم ہونے کشمیر کے ختم کرکے دیا گیا گیا تھا

پڑھیں:

معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔

Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a

— iffi (@iffiViews) July 22, 2026

طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا