اورکزئی میں برسی شہید علامہ عارف الحسینی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
کلائیہ میں منعقدہ اجتماع میں بڑی تعداد میں علمائے کرام، عمائدین اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہید قائد ملت جعفریہ علامہ سید عارف الحسینی کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
اسلام ٹائمز۔ شہید قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی رح کی 37ویں برسی ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع اورکزئی میں بھی عقیدت و احترام کیساتھ منائی گئی۔ کلائیہ میں منعقدہ اجتماع میں بڑی تعداد میں علمائے کرام، عمائدین اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہید قائد ملت جعفریہ علامہ سید عارف الحسینی کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اورکزئی میں برسی شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔