فیلڈ مارشل کے صدر بننے کی خبر جھوٹ، حملے پر جوابی کارروائی بھارت کے اندر گہرائی سے شروع ہو گی: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف سامنے آ گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے معروف جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پراپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے۔ بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ "دی اکانومسٹ" کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: "ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، رارکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جن کو اگر نقصان پہنچتا ہے تو بھارت کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا۔ اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے میں نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھرا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکہ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دی اکانومسٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدر بننے کی خبروں کو جھوٹ قرار دے دیا۔ ترجمان پاک فوج نے معرکہ حق کے بعد کئے جانے والے سیاسی تجزیے مسترد کر دیئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں پاکستان کے صدر بننے کی باتیں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ برطانوی جریدے نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ پاکستان بھارتی فوجی کارروائی پر کیا ردعمل ظاہر کرے گا؟۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دوٹوک جواب دیا کہ بھارت نے حملہ کیا تو اس بار اس کے مشرق سے آغاز کریں گے۔ شروعات بھارت کے اندر گہرائی سے حملہ کرنے سے ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری ڈی جی آئی ایس پی آر کہ بھارت بھارت کو بھارت کے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔