امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارتی طیارے گرائے جانے کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارتی طیارے گرائے جانے کی تصدیق کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 9 August, 2025 سب نیوز
واشنگٹن:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی جنگی طیارے گرائے جانے کی تصدیق کر دی۔
آذربائیجان اور آرمینیا میں امن معاہدے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پاک بھارت جنگ میں 5یا 6 جنگی طیارے گرائے گئے، دونوں ممالک کے درمیان تنازع بڑا تھا، پاکستان اور بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ کے دہانے پر تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں جنگیں نہیں چاہتا، امن اور تجارت چاہتا ہوں، میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی رکوائی، روس سے ڈیل آخری مرحلے میں ہے، صدر پیوٹن اور زیلنسکی سے جلد ملاقات ہوگی، روس اور یوکرین اب امن چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ بندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک بڑی جنگ کی طرف جارہے تھے، ان سے کہا کہ لڑائی نہیں تجارت کرو، پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری طرف بھارت نے امریکا کے حالیہ ٹیرف اقدامات سے تنگ آ کر روس اور چین سے قربت بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سات سال میں پہلی بار چین کا دورہ کرنے جا رہے ہیں جبکہ مودی نے روسی صدر پیوٹن کو بھی بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔
اس کے علاوہ بھارت نے امریکا سے ہتھیاروں اور طیاروں کی فروخت بھی روک دی ہے جسے عالمی ماہرین نے سنجیدہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق بھارت کے صدر نریندر مودی نے 17 جون کو ٹرمپ کی کھانے کی دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تھا کیونکہ مودی کو خدشہ تھا کہ اس موقع پر ٹرمپ کہیں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات نہ کرا دیں۔
بلوم برگ کے مطابق17 جون کو امریکی صدر اور نریندر مودی کی 35 منٹ ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، ٹرمپ اور مودی کی فون کال امریکا بھارت تعلقات کے درمیان ٹرننگ پوائنٹ بنی، تناؤ بھری ٹیلی فونک گفتگو کے بعد امریکا بھارت تعلقات میں تلخی آنا شروع ہوئی۔
اسی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد امریکی صدر نے بھارتی معیشت کو مردہ قرار دیا اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف بھی عائد کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ پر قبضہ نہیں حماس سے آزاد کرانے جارہے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم غزہ پر قبضہ نہیں حماس سے آزاد کرانے جارہے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم پاک افغان بارڈر پر قبائل کا دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کو علاقہ بدر کرنے کا اعلان ٹرمپ نے ایک اور جنگ رُکوا دی، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ کرا دیا خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی خارج از امکان نہیں،مناسب وقت پر اکثریت ثابت کرینگے، امیر مقام شمالی وزیرستان میں جمعہ سے پیر کی صبح تک کرفیو نافذ اسرائیل خطرناک اقدامات فوری طور پر بند کرے، چینی وزارت خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: طیارے گرائے ٹرمپ نے ایک امریکی صدر کے درمیان اور بھارت کہا کہ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔