انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے تھانہ شادمان اور جناح ہاؤس کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمات کا جیل ٹرائل مکمل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی سمیت دیگر کیسز میں قومی اسمبلی کے 8 ارکان کی نااہلی، عمر ایوب اپوزیشن لیڈر نہیں رہے

دونوں مقدمات میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود ملزمان کو باہر جانے سے روک دیا۔ تاہم بعد ازاں عدالت نے بتایا کہ محفوظ شدہ فیصلہ 11 اگست کو سنایا جائے گا۔

پولیس نے 9 مئی کو تھانہ شادمان کو جلانے کے مقدمے میں 41 ملزمان کے خلاف چالان جمع کرایا، جن میں سے 25 کا ٹرائل کیا گیا، 15 کو اشتہاری قرار دیا گیا جبکہ ایک ملزم وفات پا چکا ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 45 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

ملزمان میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور دیگر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کیس میں سزائیں: عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت پی ٹی آئی کے 9 پارلیمنٹیرینز نااہل قرار

اسی روز جناح ہاؤس کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے کے دوسرے مقدمے میں 65 گواہوں نے شہادت دی۔ اس کیس میں 17 ملزمان کا ٹرائل کیا گیا، 7 کو اشتہاری قرار دیا گیا اور ایک ملزم وفات پا چکا ہے۔ اس مقدمے کے ملزمان میں بھی شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ اور دیگر شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اے ٹی سی جج تھانہ شادمان عمران خان کوٹ لکھپت جیل گاڑیاں جلانے کا مقدمہ لاہور وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ٹی سی جج تھانہ شادمان کوٹ لکھپت جیل گاڑیاں جلانے کا مقدمہ لاہور وی نیوز

پڑھیں:

بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار دے دیں۔وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں، ایسی ہڑتالیں شہریوں کو قانونی نمائندگی سے محروم اور پہلے سے دباؤ کا شکار اور عدالتی نظام پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں، جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا تنظیمیں وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکتی ہیں۔

سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب

فیصلہ میں بتایا گیا کہ وکیل کی عدم پیشی پر مقدمے کی سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی جاتی ہے، ہمارا قانونی نظام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے، عدالتوں میں مقدمات کی طویل فہرستیں موجود ہیں، سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلے کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں، انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کے پی بار کونسل نے وکلا کو وکیل کے قتل میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے روکا، پولیس افسر کی قانونی نمائندگی پر وکیل کا لائسنس معطل کر دیا گیا، متاثرہ وکیل نے لائسنس معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم پشاور ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے لائسنس بحالی کا فیصلہ دیا۔

سندھ سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

آئینی عدالت نے وکیل کے لائسنس بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار