برطانوی سفیر کی مداخلت پر بغداد کا شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
عراقی سرکاری افواج میں شامل عوامی مزاحمتی فورس کے بارے برطانوی سفیر کے حالیہ مداخلت آمیز بیانات پر بغداد کیجانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اسلام ٹائمز۔ غیر پیشہ ورانہ سفارتی طرز عمل اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی برطانوی سفیر کے بیانات پر عراقی حکام کے شدید اعتراضات کے بعد عراقی نائب وزیر خارجہ محمد حسین بحرالعلوم نے بھی برطانوی سفیر کے ساتھ گفتگو میں ان بیانات سے متعلق عراقی حکومت کے شدید اعتراضات پر روشنی ڈالی ہے۔ اس موقع پر محمد حسین بحر العلوم کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے جبکہ اس کنونشن کے مطابق، سفارتکار میزبان ملک کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز کا پابند ہے۔
اس حوالے سے عراقی حکومت نے برطانوی سفیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے بیانات کو دہرانے سے گریز کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات و باہمی احترام کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں عراقی وزارت خارجہ نے بھی تعمیری سفارتی تعلقات کی پاسداری، باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہنے اور ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ عراق میں برطانوی سفیر نے حال ہی میں ایک بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ داعشی دہشت گرد گروہ کی شکست کے بعد اب عراق میں حشد الشعبی کی ضرورت ہی نہیں رہی!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برطانوی سفیر
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔