لودھراں میں عوامی ایکسپریس کی 4 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، 1 جاں بحق، 33 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
پنجاب کے ضلع لودھراں میں کراچی جانے والی عوامی ایکسپریس ٹرین کی 4 بوگیاں پٹڑی سے اترنے کے نتیجے میں 1 مسافر جاں بحق جبکہ 33 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والی عوامی ایکسپریس لودھراں ریلوے اسٹیشن کے قریب بریک فیل ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہوئی۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 11 زخمیوں کو جائے وقوعہ پر ہی ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ 2 زخمیوں کو تشویشناک حالت میں بہاولپور ریفر کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں ریلوے آپریشن معطل، متعدد ٹرینیں منسوخ
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے سات روز میں انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
وزیر ریلوے نے حادثے کے مقام کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا اور متعلقہ حکام کو پٹڑی کی فوری بحالی کی ہدایت کی تاکہ ریلوے آپریشن معمول پر لایا جاسکے۔
پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹرز نے کل ایمرجنسی اجلاس طلب کرلیا ہے جس کی صدارت وزیر ریلوے کریں گے۔ دوسری جانب باقی مسافروں کو متبادل ٹرین کے ذریعے کراچی روانہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: جعفر ایکسپریس ٹریک پر دھماکا، 5 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ریلوے حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چند روز قبل خانپور کے قریب پشاور جانے والی عوام ایکسپریس کی 2 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں جبکہ ملتان جانے والی موسیٰ پاک ایکسپریس بھی حادثے کا شکار ہوئی۔ رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد ایکسپریس بھی کالا شاہ کاکو کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں 29 افراد زخمی ہوئے اور پٹڑی سمیت ٹرین کو شدید نقصان پہنچا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بریک فیل پٹڑی حادثہ ریل عوامی ایکسپریس کراچی لودھراں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بریک فیل پٹڑی ریل عوامی ایکسپریس کراچی لودھراں عوامی ایکسپریس بوگیاں پٹڑی سے جانے والی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔