سڈنی میں میرے ایک قریبی دوست ہیں، سہیل بھائی۔ وہ خود کو فیصل آبادی کہتے ہیں، مگر میں انہیں ہمیشہ ’لائل پوری‘ کہہ کر پکارتا ہوں، کیونکہ وہ شریف النفس اور لائل انسان ہیں۔
ملکی سیاست میں ہمارے نظریات یکسر مختلف ہیں۔ وہ خان صاحب کے دیوانے ہیں اور میں پاکستان کی ساری شخصی قیادت کا سب سے بڑا ناقد۔
مگر اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کی بے پناہ عزت کرتے ہیں اور کبھی کبھار ایک دوسرے کے ساتھ الجھ کر سیاسی اختلافات کا بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔ یہ سب فطری ہے، کیونکہ ہم باشعور انسان ہیں، اور ایک دوسرے کو سپیس دینا جانتے ہیں۔
گزشتہ شب میں سہیل کے ہاں ڈنر پر مدعو تھا۔ کھانے کے دوران پاکستان سے ان کے کزن کا فون آیا، جو اپنے بیٹے کے مستقبل کے حوالے سے کافی فکرمند تھے اور آسٹریلیا کے بارے میں معلومات مانگ رہے تھے۔
سہیل نے فون پر انہیں باور کرانے کی کوشش کی کہ یہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور سیٹل ہونا انتہائی مشکل ہے۔ آسٹریلیا کا ویزہ حاصل کرنا دنیا کے پیچیدہ چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔
آخر میں سہیل بھائی نے اپنے کزن کو کہا ’یہاں پر ہم کون سے چونسے چوس رہے ہیں؟ یہاں کی زندگی بہت مشکل ہے، اور پھر یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ ایک دم مجھے ایسا لگا جیسے دنیا کا سب سے قیمتی راز کسی نے چھپالیا ہو‘۔
کھانا کھانے کے بعد ہم چائے کی پیالیاں پکڑ کر گھر کے اوپر والے پورشن پر آگئے۔ کھڑکی کے باہر برستی بوندا باندی کے مزے لیتے ہوئے میں نے اپنے دوست سے کہا، ’یار، تم اپنے کزن کو درست باتیں بتا رہے تھے، لیکن ساتھ میں اس کی حوصلہ شکنی بھی کر رہے تھے۔ حقیقت یہ بھی تو ہے کہ ہم دنیا کے بہترین ملک میں جی رہے ہیں۔ یہاں پر امن ہے، سکون ہے، روزگار، علاج معالجہ اور بچوں کا مستقبل روشن ہے۔
ہم یہاں آم نہیں، بلکہ آموں کی پوری ٹوکری انجوائے کر رہے ہیں۔ لہذا ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی یہاں پر آئیں اور ایک بہتر سماج کا حصہ بنیں۔
ہم بھی کبھی ٹرک سے لٹک کر نہیں آئے تھے بلکہ کسی نہ کسی دوست، کزن یا جاننے والے کی رہنمائی سے یہاں تک پہنچے تھے۔ اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ دوسروں کو بھی راستہ دکھائیں، چاہے وہ سٹوڈنٹ ویزے پر آئیں یا کسی اور طریقے سے۔‘
میری باتیں سن کر سہیل مسکرائے اور بولے، ’اگلی بار اگر کسی نے معلومات مانگی، تو میں تمہارا نام ریفر کروں گا۔‘
میں نے بھی ہنس کر جواب دیا، ’مجھے کوئی اعتراض نہیں، اگر میں کسی کی رہنمائی کرسکوں تو یہ اچھی بات ہے۔‘
سہیل کے گھر سے واپس آکر میں اپنے پرسکون کمرے میں جا بیٹھا۔ باہر بارش کی بوندیں مسلسل گر رہی تھیں، اور اگست کی بارش نے گزشتہ سارے اگستوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔
اس موقع پر میں نے اللہ کا شکر اداکیا کہ ہم لاکھوں اوورسیز پاکستانی یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے معاشروں میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں، مگر افسوس کہ یہاں رہ کر بھی ہم اپنی سوچ نہیں بدل سکے۔
سیکولر معاشرے میں زندگی گزارنے کے باوجود ہم اپنی زبان اور کلچر کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کی بجائے انہیں کلمہ پڑھانے پر بضد ہیں اور توہم پرستی سے کوسوں دور ایک جمہوری ماحول میں بھی ہم سب نے اپنی ذات کے اندر شخصیت پرستی کا کنواں کھود رکھا ہے جہاں پر آنکھوں پر پٹی باندھے بریک فیل موٹر سائیکل کو اندھا دھند بھگا رہے ہیں۔
ہمارے ہاں ہر سال کرسمس کی آمد پر بحث چھڑ جاتی ہےکہ ’فلاں مسلمان نے اپنے عیسائی ہمسائے یا کولیگ کو ہیپی کرسمس کیوں کہہ دیا؟‘
ہم جہاں بھی رہیں۔ ملک اور مقام اتنا اہم نہیں بلکہ سب سے اہم بات یہ کہ ہم سوچتے کس طرح ہیں۔ خوشحالی صرف مال و دولت یا مادی سہولیات کا نام نہیں، بلکہ راستہ دکھانے، علم بانٹنے اور دوسروں کی رہنمائی کرنا اصل میں ذہنی خوشحالی اور فکری کشادگی کا نام ہے اور ہماری ذاتی ترقی تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی ذات کے اندھیروں سے نکل کر دوسروں کے لیے روشنی بنیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی زندہ معاشرے کی طرف جانے کے لیے معلومات یا مشورہ مانگے تو اسے راستہ دکھائیں اور جتنا ممکن ہو سکے گائیڈ کریں۔ ہماری زندگی کا مقصد صرف اپنی بقا نہیں۔ حکیم کے نسخے کی طرح قبر میں اتر جانے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اس نسخے کو سب کے ساتھ شیئر کرکے دنیا سے رخصت ہوں۔
’ہم یہاں پر کون سے چونسے چوپ رہے ہیں؟‘ یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں، مگر بتانا نہیں چاہتے۔ مبادا کوئی ہمارا رزق نہ چھین لے۔
ہم اوورسیز پاکستانیوں کا یہی المیہ ہے کہ ہم خوشحالی اور سہولیات سے بھرپور، مگر دل و دماغ کی کشادگی میں کہیں پیچھے ہیں ۔ ہم دنیا کے بہترین ممالک میں زندگی گزارنے کے باوجود اپنی سوچوں کی سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے غلام عباس سیال 2004 سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہیں۔ گومل یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کے بعد سڈنی یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنیٹ میں بھی ماسٹرز کر رکھا ہے۔ آئی ٹی کے بعد آسٹریلین کالج آف جرنلزم سے صحافت بھی پڑھ چکے ہیں ۔ کئی کتابوں کے مصنف اور کچھ تراجم بھی کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے ساتھ یہاں پر رہے ہیں
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔