سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ (PMDU) سمیت دیگر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اپنی تنخواہیں خود بڑھانے کے عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی نے وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ ریگولیٹری اداروں کی تنخواہوں میں اضافے کو وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط کرنے کے لیے قانونی ترامیم تجویز کی جائیں، خاص طور پر ایس ای سی پی ایکٹ میں۔

کمیٹی کی رکن انوشے رحمان نے کہا کہ خودمختار ادارے جیسے کہ اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور پی ایم ڈی یو اپنی مرضی سے فیسیں اور لائسنسنگ چارجز بڑھا کر تنخواہیں بڑھاتے ہیں، جو کہ غیر منصفانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ججوں کی تنخواہ میں صدر سے منظوری لی جاتی ہے تو ریگولیٹرز کو بھی اپنی تنخواہیں خود نہیں بڑھانی چاہئیں”۔

چیئرمین ایس ای سی پی، عاکف سعید نے جواب میں کہا کہ تنخواہوں میں اضافے سے قبل مارکیٹ سروے کیا گیا، اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مارکیٹ کے تقاضے مدنظر رکھ کر ہی تنخواہیں طے کی گئی ہیں۔

کمیٹی نے دیگر ریگولیٹری اداروں سے بھی تنخواہوں میں اضافے کا مکمل اسٹرکچر طلب کر لیا ہے اور تجویز دی کہ تنخواہوں میں اضافے کے لیے قانون سازی کے ذریعے حد مقرر (کیپ) کی جائے۔

انوشے رحمان نے یہ بھی تجویز دی کہ ریگولیٹری اداروں کی فیسز اور لائسنسنگ چارجز سے حاصل ہونے والی رقم وفاق کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع ہونی چاہیے۔
کمپٹیشن کمیشن کی کارکردگی رپورٹ
اس موقع پر چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP)، ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال کمیشن نے عدالتوں میں مؤثر پیروی کے ذریعے زیر التوا مقدمات کی تعداد 567 سے کم کر کے 280 کر دی ہے، جب کہ 41 کروڑ روپے کے جرمانے عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے ریکور کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ کارٹلز کے خلاف 14 فیصلے سنائے گئے جن کے نتیجے میں ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے، جب کہ کارٹل سازی اور اجارہ داری کے غلط استعمال کی 20، اور گمراہ کن مارکیٹنگ کی 18 انکوائریاں مکمل کی گئیں۔
چیئرمین سی سی پی کے مطابق مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ نے 193 ممکنہ کیسز کی نشاندہی کی ہے، اور مرجر و ایکوزیشن کی 117 منظوریوں سے 29 ارب روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آئی۔

سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات
سیکریٹری قانون راجا نعیم نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سی سی پی کے خلاف سپریم کورٹ میں 200 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں سے 167 مقدمات میں کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان تمام مقدمات کو یکجا کر کے آئینی بینچ کو بھجوا دیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ ان کی سماعت ستمبر میں ہوگی۔

کمیٹی اراکین نے کمیشن کو خاص طور پر سیمنٹ اور شوگر سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی۔

Post Views: 10.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ریگولیٹری اداروں کی تنخواہوں میں اضافے ایس ای سی پی

پڑھیں:

حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔

پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی