سپریم کورٹ: جہیز کی رقم کی ریکوری کا کیس لارجر بینچ کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے جہیز کی رقم کی ریکوری سے متعلق کیس مزید سنوائی کے لیے لارجر بینچ کو بھجوادیا۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالتی معاون حافظ عرافات نے دوران سماعت بتایا کہ نکاح نامے کا پیراگراف نمبر 16 متنازعہ ہے، پیرا نمبر 16 خاوند کی وراثت میں سے اہلیہ کو حصہ ملنے کے حوالے سے ہے۔
عدالتی معاون نے کہا کہ نکاح نامے کا پیراگراف نمبر 13 حق مہر کے حوالے سے ہے، طلاق کی صورت میں حق مہر اور خاوند کی وراثت میں سے حصہ دونوں ملیں گے، سپریم کورٹ کے پہلے دو فیصلے موجود ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہمارا تین ممبر بینچ اس کیس کو سن سکتا ہے جس پر عدالتی معاون نے کہا کہ اس کیس کے لیے لارجر بینچ کی ضرورت ہے، معاملے سے متعلق 2022 میں جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ موجود ہے، 2024 میں جسٹس اطہر من اللہ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے۔ عدالت نے کیس مزید سنوائی کے لیے لارجر بینچ کو بھجوادیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان لارجر بینچ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔