پاکستان کی کرپٹو سفارت کاری نے عالمی سطح پر مضبوط مقام حاصل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان کی کرپٹو سفارت کاری نے عالمی سطح پر مضبوط مقام حاصل کرلیا۔
پاکستان نے ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر کے کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی اور ریگولیشن کا آغاز کیا جو پاکستان کے ڈیجیٹل فنانس میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
بلال بن ثاقب (وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین) کے مطابق پاکستان کی کرپٹو پالیسی عالمی وژن کی پیروی میں نئے بین الاقوامی اقتصادی مواقع کھول رہی ہے۔
بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ ہمارے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو مستقبل میں عملی سرمایہ کاری کی علامت ہیں۔ فائنینشل ٹائمز نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کرپٹو توانا ئی میں تیزی سے پیش رفت اور بڑھتی ہوئی حکمت عملی کو سراہا۔
وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ یہ پہچان پاکستان کی کرپٹو میں بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے، ہم آخرکار فعال شراکت دار کے طور پر عالمی جدت کے میدان میں اپنا مقام حاصل کر رہے ہیں، پاکستان اور دیگر ممالک، بشمول سوئٹزرلینڈ اور ایل سلواڈور، نے بٹ کوائن ریزرو کو قانونی ٹینڈر کے طور پر اپنایا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی کرپٹو
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔