’ ٹیرف ہٹائے تو امریکا مالی طور پر تباہ ہوجائے گا‘، ٹرمپ نےامریکی عدالت کا فیصلہ مستردکر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر عائد کیے گئے تمام ٹیرف برقرار رہیں گے اور اگر انہیں ختم کیا گیا تو اس کے نتائج امریکا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت پر 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف آج سے نافذ، سب سے زیادہ کون سے شعبے متاثر ہوں گے اور فائدہ کس ملک کو ہوگا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی عدالت نے زیادہ تر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا۔
تاہم عدالت نے انہیں فی الحال برقرار رکھنے کی اجازت دے دی تاکہ ٹرمپ سپریم کورٹ میں اپیل کرسکیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر اپنے پیغام میں کہا:
تمام ٹیرف اب بھی نافذ العمل ہیں! آج ایک جانبدار اپیل کورٹ نے غلط طور پر کہا کہ ہمارے ٹیرف ختم کر دیے جائیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ امریکا آخرکار جیتے گا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اگر یہ ٹیرف ختم ہوئے تو ملک مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا، ہم مالی طور پر کمزور پڑ جائیں گے، اور ہمیں مضبوط رہنا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب مزید تجارتی خسارے، غیر منصفانہ ٹیرف اور دیگر تجارتی رکاوٹیں برداشت نہیں کرے گا، خواہ وہ دوست ممالک ہوں یا دشمن۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف: یورپی یونین نے جوابی کارروائی کے لیے سر جوڑ لیے
ان کے مطابق عدالت کا فیصلہ اگر برقرار رہا تو ’یہ امریکا کو عملاً تباہ کردے گا‘۔
ٹرمپ کے مطابق یہ ٹیرف امریکی ورکرز اور ’میڈ اِن امریکا‘ مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے بہترین سہارا ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ سالوں تک ناقص پالیسیوں نے ہمیں نقصان پہنچایا، لیکن اب ہم سپریم کورٹ کی مدد سے ان پالیسیوں کو اپنے فائدے میں استعمال کریں گے اور امریکا کو دوبارہ طاقتور اور خوشحال بنائیں گے۔
ٹرمپ کے کابینہ ارکان نے بھی عدالت کے فیصلے سے قبل جمع کرائی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ عالمی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینا امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے گا۔
ان کے مطابق ایسا فیصلہ عالمی تجارتی شراکت داروں کو معاہدے ختم کرنے اور جوابی اقدامات پر مجبور کرسکتا ہے، جس سے جاری مذاکرات بھی متاثر ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر امریکی عدالت ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر امریکی عدالت ٹیرف ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ٹیرف ا کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔