لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب میں دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے لگی ہے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں ہیڈ تریموں اور پنجند پر بھی تباہ کن ریلے آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں طوفانی بارشوں کے بعد پاکستانی دریاؤں میں مزید طغیانی کا خدشہ ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے کہا ہے کہ اگلے دو دن انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملتان، مظفرگڑھ، خانیوال اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ عوام کو فوری طور پر نشیبی اور کچے کے علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے لیکن سیلابی ریلہ اب بھی 90 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں زیر آب دیہات میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب دریائے چناب کا 6 لاکھ کیوسک کا ریلا جھنگ میں داخل ہوچکا ہے جبکہ مزید 4 لاکھ کیوسک پانی چنیوٹ سے گزرنے کے بعد 135 دیہات کو متاثر کرچکا ہے۔ سرگودھا، سیالکوٹ، وزیرآباد اور حافظ آباد میں بھی پانی نے تباہی مچادی ہے اور سینکڑوں خاندان محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق 10 لاکھ کیوسک کا ایک اور ریلا آج ملتان پہنچنے والا ہے۔ شہر کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا بند پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دباؤ کم کیا جاسکے۔

ادھر سندھ میں بھی سیلاب کے خطرات بڑھنے لگے ہیں۔ دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب شدید طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس سے 16 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اگر 7 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوا تو کچے کے تمام علاقے ڈوب جائیں گے، 167 یوسیز متاثر ہوں گی اور 2 لاکھ 73 ہزار خاندانوں کی فوری نقل مکانی کرنا پڑے گی۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے لاکھ کیوسک

پڑھیں:

پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کر دیئے گئے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 6لاکھ 32ہزار کاشتکاروں نے 2ارب 54کروڑ روپے کے قرض استعمال کرلئے،گندم کے سیزن میں کاشتکاروں نے 100ارب کی زرعی مداخل خریدیں،کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کیلئے 90ارب روپے دیئے گئے،کاشتکاروں نے 57ارب روپے کی اقساط ادا کردیں،3لاکھ کاشتکاروں نے 30ارب کے زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہناتھا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے،پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں،پنجاب کے کاشتکار کو خودمختار اورخوشحال دیکھنا میرا خواب ہے،کاشتکاروں نے قرض کی بروقت ادائیگی سے مثال قائم کی ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا