پنجاب اور سندھ میں تباہ کن سیلاب کا خطرہ، پی ڈی ایم اے نے ہنگامی الرٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پنجاب میں دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے لگی ہے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران دریائے چناب میں ہیڈ تریموں اور پنجند پر بھی تباہ کن ریلے آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں طوفانی بارشوں کے بعد پاکستانی دریاؤں میں مزید طغیانی کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان کاٹھیا نے کہا ہے کہ اگلے دو دن انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملتان، مظفرگڑھ، خانیوال اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ عوام کو فوری طور پر نشیبی اور کچے کے علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آرہی ہے لیکن سیلابی ریلہ اب بھی 90 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں زیر آب دیہات میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔
دوسری جانب دریائے چناب کا 6 لاکھ کیوسک کا ریلا جھنگ میں داخل ہوچکا ہے جبکہ مزید 4 لاکھ کیوسک پانی چنیوٹ سے گزرنے کے بعد 135 دیہات کو متاثر کرچکا ہے۔ سرگودھا، سیالکوٹ، وزیرآباد اور حافظ آباد میں بھی پانی نے تباہی مچادی ہے اور سینکڑوں خاندان محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق 10 لاکھ کیوسک کا ایک اور ریلا آج ملتان پہنچنے والا ہے۔ شہر کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا بند پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دباؤ کم کیا جاسکے۔
ادھر سندھ میں بھی سیلاب کے خطرات بڑھنے لگے ہیں۔ دریائے سندھ میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب شدید طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس سے 16 لاکھ افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اگر 7 لاکھ کیوسک پانی داخل ہوا تو کچے کے تمام علاقے ڈوب جائیں گے، 167 یوسیز متاثر ہوں گی اور 2 لاکھ 73 ہزار خاندانوں کی فوری نقل مکانی کرنا پڑے گی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے لاکھ کیوسک
پڑھیں:
سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
فائل فوٹوسندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔
تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔