غزہ کیلئے امدادی فلوٹیلا اسپین سے روانہ، گریتا تھنبرگ ایک مرتبہ پھر شامل
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
BARCELONA:
غزہ کے لیے امدادی کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا اسپین کے شہر بارسلونا کی بندرگاہ سے روانہ ہوگیا جس میں سویڈن سے تعلق رکھنے والی مشہور ماحولیاتی کارکن گریتا تھنبرگ ایک مرتبہ پھر غزہ جانے والے جہاز میں دیگر انسانی حقوق کے رہنماؤں کے ساتھ شامل ہوگئی ہیں۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بارسلونا سے روانہ ہونے والا فلوٹیلا اسرائیل کی رکاوٹیں توڑتے ہوئے غزہ کی پٹی میں داخل ہو کر انسانی بنیاد پر امداد پہنچانا ہے، جس میں گریتا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
بارسلونا کی بندرگاہ پر غزہ جانے والی کشتیوں کو روانہ کرنے کے لیے ہزاروں افراد جمع ہوئے، جن میں سے اکثر کے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھا اور وہ ‘فری فلسطین’ اور ‘یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کشی ہے’ کے نعرے لگا دیے۔
گریتا تھنبرگ نے روانگی سے قبل میڈیا کو بتایا کہ یہ مشن انتہائی ظلم اور دنیا کے ناکام نظام کے خلاف چیلنج ہے، یہ نظام بین الاقوامی قانون کی بالادستی برقرار رکھنے میں ناکام ہوگیا ہے۔
غزہ کی طرف روانہ ہونے والے فلوٹیلا میں درجنوں کشتیوں پر مشتمل ہے اور اس میں دنیا کے مختلف ممالک سے انسانی حقوق کے کارکنان شامل ہیں۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا کہ عالمی لیڈر اسرائیل پر دباؤ رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں تاکہ غزہ تک امداد پہنچائی جائے جہاں غزہ میں قحط جاری ہے اور لوگوں غذائی قلت سے جاں بحق ہو رہے ہیں۔
اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین ایکار نے بتایا کہ فلوٹیلا میں مزید امدادی سامان اور کارکن یونان، اٹلی اور تیونس سے شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی کی جنوب مغربی بندرگاہ گینوا میں غذا کے لیے 250 میٹرک ٹن غذائی امداد مختلف گروپس اور شہریوں نے جمع کی ہے۔
منتظمین نے بتایا کہ گینوا میں متعدد کشتیوں میں امدادی لوڈ کیا گیا ہے جو روانہ ہوگیا ہے جبکہ دیگر کشتیاں سسلی کی بندرگاہ کیٹانیا بھیج دی جائیں گی جہاں سے جہاز 4 سمتبر کو غزہ روانہ ہوگا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برازیل سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن اور فلوٹیلا کی انتظامیہ کے رکن تھیاگو ایویلا نے بتایا کہ ہم ہیروز نہیں ہیں، ہم کہانی نہیں ہیں بلکہ غزہ کے لوگ اسٹوری ہیں۔
اس مہم میں ارجنٹینا، برازیل، جرمنی، ملائیشیا، میکسیکو، پولینڈ اور امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے افراد شامل ہیں۔
غزہ جانے والے کارکنوں میں کولمبیا سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ لونا ویلنٹینا بھی ہیں جنہوں نے فلسطینی مہاجر سے شادی کی اور انہیں کولمبیا سے بے دخل کیا گیا ہے اور وہ اردن میں مقیم ہیں۔
یاد رہے کہ سویڈش کارکن گریتا تھنبرگ اس سے قبل جون میں غزہ جانے کی کوشش کے دوران اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئی تھیں اور غزہ پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو پائی تھیں، اسرائیل فوج نے ان کے امدادی جہاز کو قبضے میں لیا تھا۔
غزہ میں اسرائیل فوج کا محاصرہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری ہے اور بیرونی امداد بھی معطل کردی گئی ہے جبکہ غزہ میں بچے، بزرگ اور خواتین غذائی قلت سے شہید ہورہے ہیں اور دوسری جانب اسرائیل فوج کی بمباری اور فائرنگ سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں فلسطینی شہید ہو رہے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے حکام کےمطابق اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، لاکھوں بے گھر اور زخمی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بتایا کہ ہے اور غزہ کی
پڑھیں:
ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔
اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔