پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی حمایت پر پارٹی میں اندرونی اختلافات سامنے آ گئے اور پارٹی کے اعلیٰ رہنما اور چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس کی مخالفت کر دی۔

وزیر اعلیٰ علی امین نے گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں کالا باغ ڈیم بنانے کی حمایت کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر کالا باغ ڈیم بننا چاہیے۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کالا باغ ڈیم ریاست کی ضرورت، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کھل کر منصوبے کی حمایت کردی

علی امین کے بیان پر عوامی نیشنل پارٹی، جو کالا باغ ڈیم کی ابتدا سے مخالفت کرتی آئی ہے، نے موقف اپنایا کہ کالا باغ ڈیم کسی صورت نہیں بنے گا۔ تاہم علی امین کے بیان پر سب سے حیران کن بات ان کی اپنی جماعت کی مخالفت ہے جو کسی اور نے نہیں بلکہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خود کی۔

منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا کہ نہریں بھی نہیں نکالی جائیں گی تو پھر ڈیم کیسے بنا سکتے ہیں۔ ’دیکھو، اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں ڈیم بننے چاہئیں اور ملک کو کئی ڈیموں کی ضرورت ہے، لیکن مشاورت کے ساتھ۔‘

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کی اجازت اور خواہش کے باوجود پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ابھی سی سی آئی میں متفقہ طور پر فیصلہ ہوا تھا کہ مشاورت کے بغیر نہریں بھی نہیں نکالی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بغیر کوئی ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ ’میرے خیال میں صوبوں سے مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر کچھ نہیں بننا چاہیے۔‘

کسی میں مجال نہیں کالا باغ ڈیم ایشو کو ہاتھ لگائے، ایمل ولی

علی امین گنڈاپور کے بیان کو عوامی نیشنل پارٹی نے مسترد کر دیا۔ مرکزی صدر اے این پی ایمل ولی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم تو مشرف جیسے آمروں سے بھی نہ بن سکا جو مکا لہرا کر کہتے تھے کہ ’میں ہوں تو پاکستان ہے ورنہ کچھ نہیں‘۔ ایسے بیانات ہمیشہ عوام کی توجہ اصل مسائل اور اپنی لوٹ مار سے ہٹانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کالا باغ کو قوم نے ایک بار دفن کر دیا، اب کسی کے باپ کی بھی مجال نہیں کہ اس مردے کو دوبارہ زندہ کرے، ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تو چھوڑیں، دنیا بھر کے آبی ماہرین یہ بات مانتے ہیں کہ ڈیم سیلاب روکنے کا حل نہیں ہوتے۔ اور اگر کوئی اب بھی ضد پر قائم ہے تو بھاشا ڈیم بنا لے۔ بھاشا کی عمر کالا باغ سے دوگنی ہے اور بجلی 3 گنا زیادہ پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی عادت ہے کہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے ایسے مدفون مردے اکھاڑتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کو زندہ کرنے کے خواب تو علی امین کی 7 پشتوں کے بس کی بات بھی نہیں۔

خیبر پختونخوا کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیوں؟

خیبر پختونخوا میں قوم پرست جماعت اے این پی شروع دن ہی سے کالا باغ ڈیم کی مخالف رہی ہے جبکہ پی پی پی کو بھی اس پر اعتراض ہے۔ منظور علی پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور روزنامہ ڈان کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کے مطابق اے این پی پہلے دن سے ہی اس ڈیم کی مخالف ہے۔ منظور نے بتایا کہ اے این پی کا موقف ہے کہ اس ڈیم سے صوبے کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ اے این پی کے مطابق چارسدہ، نوشہرہ ڈوب جائیں گے جبکہ پشاور میں بھی سیم و تھور کا مسئلہ پیدا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: قدرتی آفت میں یہ کہنا فضول ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم ہوتا تو نقصان نہ ہوتا، وزیراعلیٰ سندھ

منظور نے بتایا کہ پی پی پی چونکہ سندھ میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور ان کا موقف ہے کہ اس ڈیم سے سندھ میں پانی کا بحران پیدا ہو گا۔ اور مقررہ مقدار میں پانی سمندر میں نہ جانے سے مسائل بڑھیں گے۔ ’اس ڈیم پر اتفاق رائے نہیں ہو گا۔ اے این پی کبھی بھی نہیں مانے گی۔‘

منظور نے کہا کہ ڈیم سے کتنا فائدہ ہو گا یا نقصان، اس کو کوئی نہیں دیکھتا، بس سیاسی مفادات ہی کو دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی سیلاب کالاباغ ڈیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سیلاب کالاباغ ڈیم علی امین گنڈاپور کالا باغ ڈیم کی کی مخالفت نے کہا کہ اے این پی بھی نہیں کی حمایت انھوں نے اس ڈیم تھا کہ

پڑھیں:

اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار

روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے  الزام  میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق  یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب  ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4  پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ  اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ  بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت