سیلاب متاثرہ علاقوں میں مواصلات کا نظام اور بجلی فوری بحال کی جائے، وزیراعظم کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 2 September, 2025 سب نیوز

بیجنگ (سب نیوز)وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلات کے نظام اور بجلی کی ترسیل کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں جاری مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے بیجنگ سے اجلاس کی صدارت کی۔ وزیراعظم نے اپنی مصروفیات کچھ دیر کے لیے ترک کر کے این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی تیاری و کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ لی۔وزیراعظم نے این ایچ اے اور وزارتِ توانائی کو ہدایت دی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلات کے نظام اور بجلی کی ترسیل کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی، ان کی فوری امداد اور متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتیں اور تمام ادارے مکمل تعاون سے کام جاری رکھیں۔ وزیراعظم نے خصوصی طور پر پنجاب اور سندھ میں جاری صورتحال پر بحالی اور امدادی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، بیراجوں اور ڈیمز کی ریگولیشن جاری ہے اور این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں اور ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مکمل تعاون میں مصروف ہے۔بتایا گیا کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج کے مختلف مقامات پر طغیانی کی وجہ سے پنجند کے مقام پر شدید سیلاب متوقع ہے، جو 6 ستمبر کی دوپہر تک گڈو بیراج پہنچ سکتا ہے۔ سندھ میں متوقع صورتحال کے پیش نظر این ڈی ایم اے سندھ حکومت کے ساتھ انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ریسکیو 1122، پاک فوج، رینجرز، غیر سرکاری تنظیمیں اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز متاثرہ علاقوں میں مشترکہ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں تک امدادی سامان کے قافلے تسلسل سے روانہ کیے جا رہے ہیں جبکہ بجلی کی ترسیل اور متاثرہ نظام کی بحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔اجلاس میں وزیراعظم کو مزید آگاہ کیا گیا کہ این ڈی ایم اے چیئرمین صوبائی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور لاپتہ شہریوں کی تلاش کے عمل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بیجنگ سے شریک تھے جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر اعلی افسران پاکستان سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروی لاگ میں غیر مناسب ریمارکس پر پی ٹی وی کے اینکر پرسن رضی دادا معطل،نوٹیفکیشن سب نیوز پر وی لاگ میں غیر مناسب ریمارکس پر پی ٹی وی کے اینکر پرسن رضی دادا معطل،نوٹیفکیشن سب نیوز پر کالا باغ کی تعمیر سے متعلق علی امین کا بیان پارٹی پالیسی نہیں،اسد قیصر نے مخالفت کردی بالاج ٹیپو قتل کیس میں گوگی بٹ ذمہ دار قرار، جے آئی ٹی ذرائع حکومتی بینچوں پر بیٹھ کر اپوزیشن جیسی باتیں زیب نہیں دیتیں، حنیف عباسی کی خواجہ آصف پر تنقید ٹیلی کام سیکٹر میں کارٹیلائزیشن، پی ٹی سی ایل نے 46کروڑ روپے جرمانہ ادا کردیا علیمہ خان سے صحافی کے چبھتے سوالات، بانی پی ٹی آئی کی بہن کا جواب دینے سے گریز TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں مواصلات نظام اور بجلی ڈی ایم اے اجلاس میں کی ہدایت سب نیوز بحال کی گیا کہ کے لیے

پڑھیں:

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا

متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ 

ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ