ملتان(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ملتان میں سیلاب متاثرہ بچوں سے ملاقات کی اور ریلیف کیمپوں کا دورہ کیا۔ یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ پنجاب میں جاری شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔

سیلاب کے نتیجے میں صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں 6 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اوباما فاؤنڈیشن کے 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ان خطوں میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بار بار آنے والے مون سون بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ملتان میں ریلیف کیمپوں کا قیام کوئی نیا عمل نہیں۔ 2020 میں بھی شہر کی ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کی امداد کے لیے 13 کیمپ قائم کیے تھے، جو اب ایک بار پھر 2025 کے حالیہ بحران میں فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی جریدے “انٹرنیشنل جرنل آف ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن” میں 2023 میں شائع تحقیق کے مطابق سیاسی شخصیات کی ریلیف سرگرمیوں میں موجودگی عوامی اعتماد میں 15 سے 20 فیصد اضافہ کرتی ہے۔ اس پس منظر میں ماہرین کا خیال ہے کہ مریم نواز کی یہ سرگرمیاں نہ صرف متاثرین کے لیے فوری مدد فراہم کر رہی ہیں بلکہ ان کے سیاسی تشخص کو بھی مزید تقویت دے رہی ہیں۔

Humanity has no age …… ????
Multan flood relief camps.

pic.twitter.com/oBpjd6IxBp

— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 3, 2025

Post Views: 7

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا