اے این ایف نے عالمی اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا؛ بھاری مقدار میں منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
کراچی:
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے میتھ ایمفیٹامائن (آئس) کے بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا اور مختلف چھاپوں کے دوران مجموعی طور پر 109.24 کلوگرام آئس برآمد کر لی۔
ترجمان کے مطابق مستند خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف نے کراچی کے علاقے صائمہ جناح ایونیو کے قریب ایک گاڑی کو روکا اور تلاشی کے دوران 11.
گرفتار ملزمان کے انکشاف پر ٹیم نے صائمہ جناح ایونیو پر واقع ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا جہاں سے آئس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور منشیات کو مختلف طریقوں سے چھپانے کا سامان برآمد کیا گیا۔
مزید تفتیش کے بعد ملزمان کی نشاندہی پر کراچی کے علاقے شاہ لطیف کالونی میں واقع ایک گودام پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے مزید 86.040 کلوگرام آئس برآمد ہوئی جب کہ کپڑوں میں جذب شدہ 12 کلوگرام آئس بھی ضبط کر لی گئی۔
کارروائیوں میں مجموعی طور پر 109.24 کلوگرام آئس برآمد ہوئی جس کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت 15 کروڑ 35 لاکھ 70 ہزار امریکی ڈالرز سے زائد بنتی ہے۔ اے این ایف نے ملزمان کے قبضے سے ایک 9 ایم ایم پستول، میگزین اور 13 گولیاں بھی برآمد کیں۔
ترجمان کے مطابق یہ کامیابی ادارے کی منظم اور موثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اے این ایف پاکستان کو سینتھیٹک ڈرگز سے پاک کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہے اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جو پاکستان کو منشیات اسمگلنگ کے لیے راہداری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق آئس کے استعمال کا بڑھتا رجحان قومی سطح پر، خصوصاً نوجوانوں اور تعلیمی اداروں میں، ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف نہ صرف آپریشنل کارروائیاں کی جا رہی ہیں بلکہ ایک خصوصی آگاہی مہم بھی جاری ہے جس کے تحت ملک بھر کی جامعات میں سیمینار منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو آئس کے صحت اور معاشرے پر تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کلوگرام آئس برآمد اے این ایف
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ