ریلوے کی یورپ اور وسطی ایشیا تک رسائی کیسے ممکن ہوگی؟ حنیف عباسی نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی کراچی کے دورے پر ہیں جہاں وہ ریلوے کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جمعرات کے روز حنیف عباسی نے ریلویز کی سینئر انتظامیہ کے ہمراہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کا دورہ کیا۔ کے پی ٹی آمد پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان عابد، ستارہ امتیاز (ملٹری)، نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر کے پی ٹی کی سینئر انتظامیہ بھی چیئرمین کے ہمراہ موجود رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے نظام میں بہتری کے لیے انقلابی اقدامات جاری ہیں، وزیر ریلوے حنیف عباسی
ریلویز وفد کے دورے کا مقصد ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور مشرقی و مغربی وارو یارڈ کی تجدید اور آپریشنز سے متعلق اہم امور پر پیشرفت کا جائزہ لینا اور باہمی مشاورت تھا۔
ایم ایل ون کی منظوری اور افتتاح کی تاریخوفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ ایم ایل ون پر کام جاری ہے جسے پنجاب حکومت نے منظور کر لیا ہے، اور اس کا افتتاح جون 2026 میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے کیا جائے گا۔
ریکوڈک، مزار شریف اور عالمی ربط کا ویژنانہوں نے بتایا کہ 2028 میں ریکوڈک منصوبہ بھی میچور ہو جائے گا، جبکہ اگر پاکستان مزار شریف تک ریل نظام کو وسعت دے پاتا ہے تو یورپ اور وسطی ایشیا تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ اس مقصد کے لیے 10 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاہور پاکستان کی پہلی بلٹ چلانے کی تیاری، سفر کتنا کم ہوجائے گا؟
چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ کراچی پورٹ اپنی پوری استعداد کے باوجود صرف 50 فیصد کارگو ہینڈل کر پارہا ہے کیونکہ سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ ریلویز کا جدید نظام ہی اس مسئلے کا مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی تفصیلاتچیئرمین نے بتایا کہ 52 کلومیٹر طویل ریلوے کاریڈور مشرقی و مغربی وارو یارڈز کو پپری مارشلنگ یارڈ کے لاجسٹک پارک سے منسلک کرے گا۔ پہلا فیز فائنل ہو چکا ہے، اور کے پی ٹی ریلویز کا معاون ہوگا۔
دوسرے فیز کے لیے این او سی کا انتظارچیئرمین ریلویز سید مظہر علی شاہ نے بتایا کہ دوسرے فیز کے حوالے سے ٹرمینلز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ چیئرمین کے پی ٹی نے نشاندہی کی کہ دوسرے فیز کے لیے ریلویز سے این او سی طلب کی گئی تھی جو تاحال موصول نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سی پیک منصوبے کے تحت کراچی تا پشاور ریلوے ٹریک کا انجینیئرنگ ڈیزائن مکمل
چیئرمین نے بتایا کہ 1964 میں کے پی ٹی نے کراچی سرکلر ریلویز کے لیے 64 ایکڑ زمین ماری پور میں فراہم کی تھی، لیکن 1998 میں منصوبہ ختم کر دیا گیا اور زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔
ٹرمینلز کا دورہ اور بندرگاہی آپریشنز کا معائنہوفد نے چیئرمین کے پی ٹی کی سربراہی میں کراچی گیٹ وے ٹرمینل اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز کا دورہ کیا، جبکہ بعد ازاں ہاربر فیری کروز کے ذریعے کراچی پورٹ کے آپریشنز کا بھی معائنہ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان حنیف عباسی ریکوڈک کوریڈور کراچی وزیر ریلوے؎ وسطی ایشیا یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان حنیف عباسی کراچی وزیر ریلوے وسطی ایشیا یورپ چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ حنیف عباسی کے لیے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔