وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عطیات کے عالمی دن پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر آج عطیات کے عالمی دن پر معاشرتی فلاح و بہبود میں امداد و عطیات اور باہمی رواداری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔پاکستان کی معاشرتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی بلا رنگ و نسل اور بلا تعصب ہو کر دوسروں کی بے لوث مدد کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ دوسروں کی خدمت کا پرخلوص جذبہ، پاکستان کی سماجی و معاشرتی اقدار اور تہذیب کا اثاثہ ہے۔ پاکستان کے رضاکار خدمت کاروں نے حادثات، قدرتی آفات، جنگ اور دیگر ایمرجنسی حالات میں ہمیشہ اپنے اہل وطن کی بھرپور عملی اور مالی مدد کی ہے ۔ پاکستانیوں کی فلاحی کاموں اور امداد و عطیات میں بھرپور شرکت کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام سب سے زیادہ عطیات دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ ہمارے معاشرے کے مخیر حضرات عطیات کے زیر اہتمام مفت علاج مفت دسترخوان، مفت ایمبولنس سروس جیسی خدمات بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔یہ بلا شبہ ہمارے سماجی ومعاشرتی اور اسلامی تعلیمات اور تہذیب کی روشن روایات کی آئینہ دار ہے، ہمیں فخر ہے کہ ہمارے معاشرے میں بےلوث خدمت، دوسروں کی امداد اور فلاحی کاموں میں شرکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان بھی حکومتی سطح پرمختلف جامع پروگرامز کے ذریعے تخفیف غربت اور فلاحی کاموں کی مختلف سکیموں پر کامیابی سے کام کر رہی ہے۔ ان پروگرامز میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، زکوۃ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن، پاکستان تخفیف غربت فنڈ، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل ٹریننگ اتھارٹی اور صحت کے شعبہ میں دیگر اقدامات کے تحت لاکھوں ضرورت مند افراد فیضاب ہو رہے ہیں۔ حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر باہمی رواداری، امداد و عطیات کے اس سماجی جذبہ نے اور بھی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ آبادی کے مال و مویشی، روزگار اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ آبادی اشیائے خورد و نوش، چھت اور صحت کی سہولیات کے منتظر ہیں جس کے لیےوفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، عوام اور فوج سب مل کر ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عطیات کے عالمی دن پر آج میں پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں سے سیلاب کے بعد ریلیف اور بحالی کے کاموں میں اپنے ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کرنے کی یاد دہانی کرواتا ہوں۔ باہمی رواداری اور مدد کے جذبہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم بحیثیت قوم ترقی و خوشحالی، باوقار اور مضبوط مستقبل کے لئے پرعزم ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطیات کے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں