برطانیہ میں فلسطین کے حق میں احتجاج، 425 مظاہرین گرفتار، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
لندن میں ‘فلسطین ایکشن’ نامی تنظیم پر پابندی کے خلاف سب سے بڑے مظاہرے کے دوران پولیس نے 425 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ احتجاج تنظیم ڈیفینڈ آور جیوریز کی کال پر ہوا جس میں ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ مظاہرین دوپہر ایک بجے پارلیمنٹ اسکوائر میں جمع ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر: ’میں نسل کشی کی مخالفت کرتا ہوں، میں فلسطین ایکشن کی حمایت کرتا ہوں‘ لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بیلجیم نے فلسطین کو تسلیم کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا
پولیس نے احتجاج شروع ہوتے ہی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ شام 9 بجے کے قریب میٹرو پولیٹن پولیس نے اعلان کیا کہ 425 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق افسران پر لاتیں، گھونسے اور اشیاء پھینکی گئیں، جسے ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا۔
دوسری جانب مظاہرین کے منتظمین نے پولیس پر الزام لگایا کہ اہلکاروں نے بزرگوں سمیت پرامن احتجاج کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہزاروں افراد کو محض پلے کارڈ اٹھانے پر حراست میں لینے کی کوشش کی۔
Chaos erupts as Free Palestine/ Palestine action protesters push back police, following a number of arrests as people breach the terrorism prescription for Palestine Action.
On Parliment Square, London, England pic.twitter.com/s9FsSY6WNZ
— Tke Media (@TkeMedia) September 6, 2025
احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کئی افراد کو زمین پر گرا دیا گیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں بھی اٹھائیں اور متعدد گرفتار شدگان کو وین میں منتقل کیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان گرفتاریوں کو آزادی اظہار اور پُرامن احتجاج کے بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ محض پلے کارڈ تھامنے پر لوگوں کو ’دہشت گرد‘ سمجھنا غیر متناسب اور ناقابلِ قبول ہے۔
برطانیہ میں یہ احتجاج گزشتہ ماہ کے بعد سب سے بڑا تھا جب 532 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل غزہ جنگ فلسطین لندن مظاہرے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین لندن مظاہرے افراد کو
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔