غزہ میں صیہونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 87 فلسطینی شہید ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کے بےگھر فلسطینیوں کے اسکولوں، اسپتالوں، کیمپوں، خیموں اور خوراک تقسیم کرنے والے مرکز پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت کم از کم 87 فلسطینی شہید اور 409 زخمی ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صیہونی فوج نے غزہ میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہریوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں خوراک کے حصول کے لیے باہر نکلنے والے مزید 31 فلسطینی شہید اور 132 زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 409 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اس طرح شدید غذائی بحران کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 387 تک جا پہنچی ہے، جن میں 138 بچے شامل ہیں۔

غزہ کی حکومت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 20 ہزار سے زیادہ بچے شہید ہو چکے ہیں، شہید ہونے والوں میں کم از کم ایک ہزار بچے ایسے تھے جن کی عمر ایک سال بھی نہیں تھی۔ ان میں تقریباً آدھے وہ نومولود بچے تھے جو حالیہ جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور اسرائیلی فوج کے حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر صحت کے حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے 43 ہزار سے زائد بچے اس وقت شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اسی طرح 55 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی غذائی کمی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ 27 مئی سے اب تک انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2,416 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 17,709 سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 11,911 سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 50,735 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 22 ماہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 662 فلسطینی کھلاڑی اور اسپورٹس عہدے دار شہید ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فوج نے 22 ماہ سے جاری جنگ میں 248 فلسطینی صحافی شہید کیا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 368 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔

حکومتی میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے صیہونی فوج کی بمباری میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 83,740 سے تجاوز کر چکی ہے، ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 162,776 تک پہنچ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: اسرائیلی حملوں میں کی مجموعی تعداد فلسطینی شہید فلسطینیوں کی کے نتیجے میں سے تجاوز کر صیہونی فوج کے دوران کے مطابق شہید ہو گئی ہے غزہ کی

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم