یورپی ایف کلاس چیمپیئن شپ میں اسد واحد کا شاندار کارنامہ، پاکستان کا پرچم بلند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان کے ماہر نشانہ باز اسد واحد نے یورپ کے سب سے بڑے شوٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھا کر دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر دیا۔
برطانیہ کے تاریخی بزلی شوٹنگ گراؤنڈ میں ہونے والی 2025 کی یورپی ایف کلاس چیمپیئن شپ میں اسد واحد نے نہ صرف مشکل ترین موسمی حالات کا مقابلہ کیا بلکہ دنیا کے صفِ اول کے نشانہ بازوں کو بھی سخت ٹکر دی۔
اس سال ہونے والا ایونٹ تاریخ کا سب سے بڑا اور سخت ترین مقابلہ ثابت ہوا جس میں امریکا، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جنوبی افریقہ، آئرلینڈ، برطانیہ، پولینڈ، لیتھوانیا اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے 400 سے زائد بہترین شوٹرز نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: اداکارہ صبا قمر کی شوٹنگ کے دوران طبیعت بگڑ گئی، آئی سی یو میں داخل
اسد واحد نے ایف ٹی آر (F-TR) کیٹیگری میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 208 عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کا سامنا کیا جن میں موجودہ عالمی چیمپئن، سابق یورپی چیمپئن اور مختلف ممالک کے نیشنل چیمپئنز شامل تھے۔
مقابلے میں شوٹرز کو 800، 900 اور 1000 گز کی فاصلوں پر نشانہ بازی کے 6 مراحل سے گزرنا پڑا۔ تیز بارش، آندھی اور بدلتے ہوئے ہواؤں کے جھکڑ نے ہر کھلاڑی کے لیے چیلنج کو دوگنا کر دیا۔
ایسے کٹھن حالات میں بھی اسد واحد نے غیرمعمولی حوصلے، تحمل اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 450 میں سے ک419 پوائنٹس حاصل کیے اور صرف ایک پوائنٹ کے فرق سے ٹاپ تھری میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ وہ پانچویں نمبر پر رہے لیکن ٹاپ 5 میں شامل ہونے والے واحد غیر امریکی شوٹر بنے۔
مزید پڑھیں: شوٹنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد شاہ رخ خان علاج کے لیے امریکا منتقل
اسد واحد کی کامیابیوں میں شامل ہیں:
1000 گز کے مقابلے میں سلور میڈل
روٹ لینڈز ٹیم میچ (F-Open کیٹیگری) میں سلور میڈل جہاں انہوں نے ’تھری لائنز‘ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور اٹلی جیسی مضبوط قومی ٹیموں کو شکست دی۔
ٹاپ 5 اوورآل ایوارڈ، جو تمام فاصلوں پر ان کی مسلسل بہترین کارکردگی کا اعتراف ہے۔ یہ کامیابی اسد واحد کے پہلے سے روشن کیریئر میں ایک اور تاریخی سنگِ میل ہے۔
وہ 2024 کی اسی چیمپیئن شپ میں رنر اپ رہے تھے، برٹش نیشنل لیگ جیت چکے ہیں اور اب تک درجنوں قومی و بین الاقوامی ٹرافیاں اور سینکڑوں میڈلز اپنے نام کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: فلم ’دیمک‘ کی شوٹنگ سے قبل جنات نے دھکا دے کر زخمی کیا، ثمینہ پیرزادہ
ان کی یہ کامیابی صرف ذاتی نہیں بلکہ قومی فخر کا لمحہ بھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر نشانہ بازی کا میدان مغربی دنیا کے کنٹرول میں سمجھا جاتا ہے، اسد واحد نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان آج بھی اعلیٰ درجے کے نشانہ باز پیدا کر رہا ہے۔
2026 میں دوبارہ بزلی میں ہونے والی عالمی ایف کلاس چیمپیئن شپ میں اسد واحد اب صرف ایک شوٹر نہیں بلکہ پوری قوم کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسد واحد شوٹنگ یورپی ایف کلاس چیمپیئن شپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسد واحد شوٹنگ چیمپیئن شپ میں اسد واحد نے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔