اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: بہارہ کہو میں خاتون قتل کیس کا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
اسلام آباد پولیس نے تھانہ بہارہ کہو اور ہومی سائیڈ یونٹ کی مشترکہ کارروائی کے دوران خاتون کے قتل میں ملوث سفاک ملزم کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کی کارروائی، موٹرسائیکل چوری میں ملوث گروہ کا رکن گرفتار
ترجمان پولیس کے مطابق ملزم غلام عباس نے 36 گھنٹوں قبل بہارہ کہو کے علاقے میں فائرنگ کرکے مسماۃ مناہل کو قتل کیا تھا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔
ایس پی رورل زون کی نگرانی میں پولیس ٹیم نے جدید تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے ملزم کو ٹریس کیا اور گرفتار کرلیا۔
ترجمان کے مطابق ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور اسے چالان عدالت کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔