پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلا سندھ میں داخل، وزیرِاعظم کا بڑا ریلیف پیکیج اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے بعد دریاؤں کا شدید سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوگیا۔
کچے کے علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے تاہم بعض مقامات پر مکین علاقے چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کشتی حادثات، جانی نقصانات اور متاثرہ دیہات کی تازہ رپورٹ نے مجموعی صورتحال کی سنگینی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
سندھ میں سیلابی ریلا اور نقل مکانیسیلابی پانی کشمور اور دادو کے کچے کے علاقوں میں داخل ہو گیا ہے۔ کشمور میں مکینوں کو کشتیوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ دادو کے رہائشیوں نے اپنے علاقے خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
گڈو بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 5 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر 4 لاکھ 40 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی تیاریوفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے این ڈی ایم اے میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیلاب کی دوسری لہر پنجند پہنچ چکی ہے، تاہم تمام ادارے مکمل تیاری میں ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق جانی و مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور سندھ میں ادارے ہدایت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کا ریلیف کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہوزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں کے بجلی بلوں میں ریلیف دینے کے لیے وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پورے ملک کے سیلاب زدہ اضلاع میں ایک ماہ کا ریلیف دیا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
پنجاب میں کشتی حادثات، 8 افراد جاں بحقگزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں سیلاب متاثرین کی تین کشتیاں الٹ گئیں۔
2 دن میں کشتی الٹنے کے 6 واقعات میں 8 افراد جاں بحق اور 67 کو زندہ بچایا گیا جبکہ کئی لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
جلالپور پیروالا میں 28 افراد سے بھری کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 19 کو زندہ بچا لیا گیا۔
موضع دراب پور میں بھی کشتی حادثہ پیش آیا جہاں 19 میں سے 18 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ ایک بچی کی لاش ملی، اسی طرح بہاول نگر اور اُچ شریف میں بھی کشتی الٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا کہ آئندہ تمام کشتیاں ضلعی انتظامیہ کے زیر نگرانی چلیں گی۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ: 97 جاں بحق، 2300 سے زائد دیہات متاثرپی ڈی ایم اے پنجاب کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب میں 97 شہری جاں بحق جبکہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں 4500 سے زائد دیہات متاثر ہوئے۔
سیلاب سے مجموعی طور پر 44 لاکھ 98 ہزار افراد متاثر ہوئے جن میں سے 24 لاکھ 51 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
متاثرہ اضلاع میں 396 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جبکہ 19 لاکھ سے زائد مویشی بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔
یہ تمام اعداد و شمار اور صورتحال ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد سندھ میں داخل ہونے والا یہ سیلابی ریلا آنے والے دنوں میں مزید بڑے پیمانے پر نقصانات کا سبب بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیلابی ریلا مقامات پر ڈی ایم اے کے مطابق
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ