کراچی: گڈاپ میں ندی سے مزید تین لاشیں نکال لی گئیں، تعداد 7 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
کراچی:
گڈاپ ٹاؤن کونکر ندی میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے بچے سمیت 3 افراد کی لاشیں ندی سے نکال لی گئیں، حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق کونکرندی میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے تمام افراد کی لاشیں ندی سے نکال لی گئی ہیں جس کے بعد کونکر ندی میں گزشتہ تین روز سے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا۔
منگل کوشہرمیں موسلادھاربارش کے دوران گڈاپ سٹی تھانے کے علاقے گڈاپ ٹاؤن کونکرندی میں ڈوب کرلا پتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں تیسرے روز جمعے صبح بھی ایدھی بحری خدمات کی ٹیم کی جانب سے ندی میں سرچ اینڈ ریسکیو ٓپریشن کیا گیا۔
تیسرے روز سرچ آپریشن کے دوران کونکرندی میں ڈوب پرجاں بحق ہونے والے بچے سمیت 3 افراد کی لاشیں وقفے وقفے سے ندی سے نکال لی گئیں، جاں بحق ہونے والے تینوں افراد کی لاشیں سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی سرد خانے منتقل کردی گئیں۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 8 سالہ کیلاش ولد راجہ، 45 سالہ اقبال علی ولد سبز علی اور 36 سالہ افضل ولد اعزازعلی کے ناموں سے کی گئی، جاں بحق افراد گڈاپ ٹاؤن کے رہائشی تھے۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے 4 افراد 70 سالہ گلاب، اس کی اہلیہ 60 سالہ نابو، بیٹا 40 سالہ بیٹا راجہ ولد گلاب اور 8 سالہ پوتا کیلاش ولد راجہ کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور تمام افراد ہائی روف گاڑی میں سوارتھے جبکہ حادثے میں جاں بحق ہونے والا 45 سالہ اقبال ہائی روف گاڑی کا ڈرائیور تھا۔
ترجمان کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والا افضل سپرہائی وے بقائی ٹول پلازہ پر واقع اسپتال میں سکیورٹی گارڈ تھا، واقعے کے وقت سکیورٹی گارڈ رکشے میں سوار تھا اوررکشے سے اترکر موٹر سائیکل سوار 45 سالہ جاوید شاہ سے لفٹ لے رہا تھا کہ ندی میں بہاؤ تیزہونے سے موٹر سائیکل سوارسمیت ندی میں ڈوب کرلاپتہ ہوگیا تھا، بعد ازاں ان کی لاشیں ندی سے نکالی گئیں۔
واضح رہے کہ منگل کو شہر میں موسلا دھار بارش کے دوران گڈاپ ٹاؤن کونکرندی میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے رکشہ اور 2 گاڑیاں بہہ گئی تھیں جس کے باعث رکشے اور گاڑیوں میں سوار7 افراد ڈوب کرلا پتہ ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افراد کی لاشیں کونکرندی میں جاں بحق ہونے ندی سے نکال ندی میں ڈوب ہونے والے نکال لی لی گئیں
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔