پاکستان اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
پاکستان اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹ سکتا ہے۔
لیاقت باغ راولپنڈی میں تحفظ ختم نبوت اور دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کے قطر پر حملے اور فلسطینیوں پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اسرائیل کو چند گھنٹوں میں لپیٹنے کی صلاحیت ہے۔
جس طرح پاکستان نے بھارت کو چند گھنٹوں میں لپیٹا تھا، ان کا کہنا تھا کہ چند مشکوک لوگ معاشرے میں اضطراب اور شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں۔
اسرائیل کے وحشیانہ پن سے 70 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔دوحہ، لبنان، شام اور یمن پر حملہ ملکوں کی خود مختاری پر حملہ ہے، حماس اور قطر کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امت مسلمہ کیلئے کئی محاذ کھلے ہیں، اسرائیل کی سفاکیت کے خلاف پیغام دینا ہوگا، قوم فلسطینی عوام کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی تباہی سے لوگ بے گھر اور شہید ہو چکے ہیں، ہمیں ان مظلوموں کی طرف دیکھنا چاہئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپناہ گزینوں کو واپس نہ لینے والے ممالک کے لیے برطانیہ کا سخت انتباہ پناہ گزینوں کو واپس نہ لینے والے ممالک کے لیے برطانیہ کا سخت انتباہ بلاول بھٹو کا حکومت سے سیلاب متاثرین کیلئے بین الاقوامی امداد کی اپیل کا مطالبہ سی ڈی اے کو2 ہفتے میں ریڑھی بانوں کو ریگولرائز کرنے کی ہدایت وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کیلیے بجلی بلز میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر انحصار امریکی پالیسی کی ناکامی ہے، فارن افیئرز اے آئی سی او پی کانفرنس 2025 کامیابی سے تعلیمی اور صنعتی فرق کو کم کرتی ہےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔