صدر آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر چنگدو پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر جمعے کے روز چنگدو پہنچ گئے۔
ایئرپورٹ پر چین کے نائب وزیر خارجہ سن وی دونگ اور صوبہ سیچوان کے نائب گورنر ہوانگ ریشیا نے صدرِ مملکت کا پُرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر پاکستان کے سفیر خالد ہاشمی اور چین میں پاکستان کے لیے نامزد سفیر جیانگ زائی ڈونگ بھی موجود تھے۔
چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ اس دورے کی اہمیت کے پیش نظر خصوصی طور پر پہلے ہی چنگدو پہنچ گئے تھے اور وہ صدر آصف زرداری کے ہمراہ تمام ملاقاتوں اور سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت آصف زرداری چین کے اہم سرکاری دورے پر روانہ
صدر آصف علی زرداری اپنے دورے کے دوران چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور پاک چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید آگے بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔
دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف علی زرداری چین سفیر جیانگ زائی ڈونگ سفیر خالد ہاشمی صدرِ پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا صف علی زرداری چین سفیر جیانگ زائی ڈونگ سفیر خالد ہاشمی صدر پاکستان علی زرداری زرداری چین چین کے
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔