بھارتی فوج کا چھتیس گڑھ میں سرچ آپریشن ، مقامی قبائلیوں پر گولیاں برسا دیں،10ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
بھارتی فورسز نے ریاست چھتیس گڑھ میں سرچ آپریشن کی آڑ میں مقامی قبائلیوں پر گولیاں برسا دیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع گریابند میں فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 10 افراد مارے گئے۔
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں علیحدگی پسند جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤ نواز) کے سینئر رہنما اور مرکزی کمیٹی کے رکن بالا کرشنا بھی شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران ماؤنواز جنگجوؤں سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ جو فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔
اس آپریشن میں بھارتی فوج کی سربراہی میں چھتیس گڑھ پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف)، ضلعی پولیس کی یونٹ ای-30، سی آر پی ایف کی خصوصی فورس کمانڈو بٹالین فار ریزولیٹ ایکشن (کوBRA) سمیت دیگر فورسز نے حصہ لیا۔
دوسری جانب عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بھارتی فوج نے جنگل میں مین پور تھانہ حدود میں سرچ آپریشن کے دوران نہتے قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ رواں برس صرف چھتیس گڑھ میں مختلف کارروائیوں میں اب تک 241 ماؤ نوازوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی فوج چھتیس گڑھ
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔