نیدرلینڈز کا اسرائیل کی شرکت کی صورت میں یورو ویژن 2026 مقابلوں کے بائیکاٹ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
نیدرلینڈز نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل یوروویژن 2026 میں شریک ہوا تو وہ اس موسیقی کے عالمی مقابلے کا بائیکاٹ کرے گا۔
یہ اعلان نیدرلینڈز کے سرکاری نشریاتی ادارے نے جمعے کے روز کیا۔ ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ غزہ میں جاری سنگین انسانی المیے کے پیش نظر اسرائیل کی شمولیت ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیے: واشنگٹن میں اسرائیل مخالف مظاہرے، کانگریس سے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ
بیان میں کہا گیا کہ ہم صحافتی آزادی کی شدید پامالی اور غزہ میں بڑی تعداد میں صحافیوں کی ہلاکت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے ایک روز قبل اسی نوعیت کا بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل کی موجودگی میں اس مقابلے میں شرکت کرنا ضمیر کے خلاف ہوگا۔ آئس لینڈ نے بھی بائیکاٹ پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کھل کر اسرائیل کو یوروویژن سے نکالنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یوروپی براڈکاسٹنگ یونین، جو یوروویژن کا انعقاد کرتی ہے، نے کہا ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک سے مشاورت کر رہی ہے اور دسمبر کے وسط تک ہر رکن ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مقابلے میں شریک رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔
ادارے کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے کہا ہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع پر مختلف آرا اور تشویش کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہر رکن کا ذاتی فیصلہ ہوگا کہ وہ شریک ہو یا نہیں، اور ہم ان کے فیصلے کا احترام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: جنوبی ایشیا: اسرائیل کے حامی برانڈز کا بائیکاٹ، کاروبار آدھے سے بھی کم رہ گیا
واضح رہے کہ روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد یوروویژن سے نکال دیا گیا تھا لیکن اسرائیل پچھلے 2 برسوں سے تنازعات کے باوجود مقابلے کا حصہ رہا ہے۔
ہالی ووڈ کے ہزاروں فنکار، بشمول ایما اسٹون، آوا ڈوورنے اور اولیویا کولمین، اسرائیلی فلمی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہو چکے ہیں۔ درجنوں سابق یوروویژن شرکا، جن میں 2024 کے فاتح سوئٹزرلینڈ کے نیمو بھی شامل ہیں، اسرائیل کو غزہ میں جنگی اقدامات کے باعث مقابلے سے باہر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یوروویژن 2026 کا فائنل 16 مئی کو ویانا میں ہوگا، جس سے قبل سیمی فائنلز 12 اور 14 مئی کو منعقد ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل نیدرلینڈ یورو ویژن 2026.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل نیدرلینڈ یورو ویژن 2026
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔