پشاور:

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگجو یہاں پہنچے نہیں بلکہ پہنچائے گئے ہیں اور آج پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو روک کر پاکستان کے معاشی راستے کو روکا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں اپنی جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن وسکون نام کی کوئی چیز نہیں ہے زندگی کو خطرات لاحق ہے، آج کل گھر سے نکل کر واپسی خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفاک قاتل دندناتے پھر رہے ہیں، ریاست بےبس ہوچکی اور اس کے اعصاب جواب دے چکے ہیں وہ امن دینے میں ناکام ہوگئی ہے اور بین الاقوامی قوتوں کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سی پیک کا راستہ روکا جا رہا ہے اور بین الاقوامی مفادات کو فروغ دیا جا رہا ہے، سی پیک روک کر آج پاکستان کے معاشی راستے کو روکا جا رہا ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ عمران خان کی حکومت سے ہمیں گلہ تھا لیکن موجودہ حکومت بھی پالیسی میں تبدیلی نہیں لا سکی، جنگجو یہاں پہنچے نہیں پہنچائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوتیں پاکستان کی سیاست میں مکمل دخیل ہیں یہاں حالات پیدا شدہ نہیں پیدا کردہ ہیں، صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، بیڈ گورننس نہیں مس گورننس ہے جو لوگ آج یہاں مسلط کیے گئے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے لائے ہوئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کرپش کا بازار نہیں مارکیٹ گرم ہے، جو لوگ اس حکومت کی سرپرستی کررہے ہیں وہ اس صوبے کو تباہ کرنے میں برابر کے شریک ہیں، اسٹیبلشمنٹ نے خود اعتراف کیا ہے کہ آپ سے قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹیں چھینی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی بڑی پارٹی جمعیت ہے لیکن اس کے مینڈیٹ کو بار بار چھینا جاتا ہے، 27 ویں ترمیم سے زہریلی شقوں کو جے یو آئی نے نکالا، معدنی وسائل کے مالک صوبے کے عوام اور آنے والے نسلیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کے موقع پر مقامی اور صوبے کے لوگوں کی حق تلفی کی گئی تو جمعیت مزاحمت کرے گی، صوبے اور عوام کے حقوق کا تحفظ ہوگا تو شراکت داری کے لیے تیار ہیں لیکن قانون سازی کے ذریعے معصوم لوگوں کا حق چھننے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں مائنز اور منرلز بل لانے کی کوشش کی جارہی ہے، 73 کے آئین میں صوبوں کو جو حقوق دیے گئے انہیں سلب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ہم ملک اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم بندوق کی سیا ست کے قائل نہیں بلکہ تمام مکاتب فکر کے اعلامیے پر قائم ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح اور ٹھوس ہے کہ ملک کے بقا اور آئین کی بالادستی کی جنگ ہم ہی لڑ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سی پیک

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت