Islam Times:
2026-06-03@07:52:04 GMT

لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں دو نئے پولیو کیسز کی تصدیق

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں دو نئے پولیو کیسز کی تصدیق

نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال پاکستان میں پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 26 ہو گئی، پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری کا باعث بن سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جنوبی خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں دو نئے پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال پاکستان میں پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 26 ہو گئی، پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو عمر بھر کی معذوری کا باعث بن سکتی ہے، ہر مہم میں پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں۔ نیشنل ای او سی نے کہا ہے کہ وائرس کی روک تھام کے لیے جنوبی خیبر پختونخوا میں اعلیٰ معیار کی پولیو مہم جاری ہے، پولیو مہمات بچوں کو اس لاعلاج بیماری سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جنوبی خیبرپختونخوا، باجوڑ اور اپر دیر میں آج سے پولیو مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیشنل ای او سی نے کہا ہے کہ  رواں ہفتے کی مہم میں 16 لاکھ 85 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے،  والدین سے اپیل ہے کہ ہر مہم میں اپنے 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیشنل ای او سی کیسز کی بچوں کو

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • لاپتا امریکی سائنسدان خاتون کی باقیات جنگل سے برآمد، پراسرار گمشدگیاں معمہ بن گئیں
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت