قائم مقام صدرکی سیلاب متاثرین کے لیے امدادی اقدامات کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز) قائم مقام صدرِ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے ملک میں حالیہ بارشوں اور جنوبی پنجاب میں آنے والے شدید سیلاب کے باعث متاثرہ عوام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی اقدامات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مقامی و بین الاقوامی فلاحی اداروں پر زور دیا کہ وہ متاثرین کی فوری بحالی اور بروقت امداد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں۔قائم مقام صدر نے کہا کہ سیلابی پانی سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے جس کے باعث فوری طبی امداد، ادویات اور ساز و سامان مہیا کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر بنیادی ضروریاتِ زندگی کی شدید قلت ہے، جس پر قابو پانے کے لیے قومی اور عالمی تعاون انتہائی اہم ہے۔ایوانِ صدر میں سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی ہم اہنگی اور حال ہی میں منتخب ہونے والے سینیٹر رانا ثنا اللہ نے قائم مقام صدر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، امن و امان کے حالات اور ایوانِ بالا سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ رانا ثنا اللہ کی بطور سینیٹر صدرِ مملکت سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔