سرگودھا میں الیکٹرک بسوں کا افتتاح، ترقی چھوٹے شہروں سے شروع ہوگی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
سرگودھا میں الیکٹرک بسوں کا افتتاح، ترقی چھوٹے شہروں سے شروع ہوگی: مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 19 September, 2025 سب نیوز
سرگودھا: (آئی پی اایس) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سرگودھا میں الیکٹرک بس منصوبے کا افتتاح کر دیا، بزرگ شہریوں اور طلبہ کے لیے سفری سہولت مفت ہوگی۔
افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں روایت ہے ترقی اور بڑے پروجیکٹ کو بڑے شہر سے شروع کیا جاتا ہے، پہلے ترقی بڑے شہروں سے شروع ہوکر وہاں ہی ختم ہوجایا کرتی تھی، اب چھوٹے شہروں سے ترقی شروع ہوکر پورے پاکستان میں پھیلے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ اپنے پہلے دور ے پر سرگودھا کے ہسپتالوں میں گئی تو جان کر دکھ ہوا کہ پورے سرگودھا میں دل کے علاج کا ہسپتال نہیں، سرگودھا نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے آج کام شروع کردیا ہے، انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی جلد فنکشنل ہوجائے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں نے پورے پنجاب سے اسپیشلسٹ ڈھونڈ ڈھونڈ کر سرگودھا بھیجے، اب سرگودھا میں دل کے مریضوں کو علاج کیلئے فیصل آباد یا لاہور نہیں جانا پڑے گا، اگلے ماہ نوازشریف سے درخواست کریں گے کہ وہ سرگودھا نوازشریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا اپنے ہاتھ سے افتتاح کریں۔
انہوں نے کہا کہ سرگودھا میں کبھی سرکاری یا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم جیسی کوئی چیز نہیں تھی، دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے مسافر بسوں کی چھتوں پر بیٹھے ہوتے ہیں، خواتین مسافر بسوں میں بہت تنگ ہوتی ہیں، سرگودھا کے عوام ٹوٹی پھوٹی ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے پر مجبور تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ آج ماڈرن،باعزت اورسکون والی سوار ی کا تحفہ لائی ہوں، الیکٹرک بسوں میں خواتین کیلئے الگ حصہ بنایا گیا ہے جس میں سی سی ٹی وی نصب ہیں، الیکٹرک بسوں میں سپیشل افراد، خواتین، بزرگ اورطلبہ 100فیصد مفت سفر کرسکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کل میانوالی میں الیکڑک بس سروس لانچ کی جس پر بہت خوشی ہوئی، لوگوں نے نئی الیکٹرک بسوں کے تحفے پر جشن منایا، پہلے بھیرا سے سرگودھا تک ٹوٹی پھوٹی بسوں کا کرایہ 200روپے ہوتا تھا، اب بھیرا سے سرگودھا تک کا کرایہ صرف 20روپے ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، بھارت نے پاکستان میں پانی چھوڑاجس سے 3دریاؤں میں پانی آیا، آپ کی وزیراعلیٰ جاگ رہی تھی، تاریخ کے بدترین سیلاب سے 27شہر اور5ہزار گاؤں متاثر ہوئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم جاگ نہ رہے ہوتے بہت زیادہ نقصان ہونے کا خطرہ تھا، 25لاکھ افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا، ایک ایک ٹرک میں 10ہزار افراد تک تیار کھانا، ادویات پہنچائیں، ہم نے لاکھوں جانوروں کو بھی ریسکیو کیا اورمحفوظ مقامات تک منتقل کیا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ہم اس پنجاب میں رہنے والے ہیں جہاں انسانوں کے ساتھ جانوروں کی بھی قدر ہوتی ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا پیکج نہیں دیا گیا، جن کا پورا گھر متاثر ہوا ان کو 10، 10 لاکھ روپے دے رہے ہیں، جس کے گھر کو جزوی نقصان ہوا اس کو 5لاکھ دے رہے ہیں، جس کا بڑا جانور بہہ گیا اس کو 5لاکھ روپے ملیں گے، جس کی بھیڑ یا بکری بہہ گئی اس کو 50ہزار روپے دے رہے ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ جب تک آخری سیلاب متاثرہ شخص اپنے گھر میں آباد نہیں ہوجاتا سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنو مئی کے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری نو مئی کے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کے وارنٹ گرفتاری جاری جسٹس طارق جہانگیری کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے میں اہم پیش رفت وزیراعظم کی جنیوا میں نواز شریف سے ملاقات، پاک-سعودیہ دفاعی معاہدے سے آگاہ کیا خوارج کی جانب سے مساجد کو فتنہ انگیزی کےلئے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف سعودی عرب کیساتھ معاہدے میں کسی اور ملک کی شمولیت کا دروازہ بند نہیں کیا: وزیر دفاع جی ایچ کیوحملہ کیس: عمران خان کی بذریعہ ویڈیو لنک پیشی کیلئے ایس او پیز جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الیکٹرک بسوں سرگودھا میں مریم نواز نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔