جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 ستمبر ۔2025 ) سابق وزیراعظم عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا.
(جاری ہے)
سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک نے عمران خان سے اکیلے میں بات کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی وکیل صفائی سے بات کرائی تاہم عمران خان نے مقدمہ اور قانونی نکات کی بجائے سیاسی گفتگو شروع کردی اس موقع پر وکلا صفائی نے عمران خان کوبتایا کہ ویڈیو لنک نوٹیفکیشن کو ہائیکورٹ چیلنج کررہے ہیں، آپ کی اس نوٹیفکیشن پرکیا ہدایت ہے، اس پر عمران خان نے وکلا کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ دیا.
عمران خان کی ہدایت کے بعد وکلا صفائی عدالت سے باہر چلے گئے تاہم عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردئیے عدالت نے سماعت کے دوران استغاثہ کے 2 گواہان کی شہادت قلمبند کی جس میں سب انسپکٹر سلیم قریشی اور سب انسپکٹر منظورشہزاد نے بیان ریکارڈ کرایا جب کہ دونوں گواہان کی جانب سے ویڈیوکلپس پر مشتمل 5 یو ایس بی عدالت میں پیش کی گئیں بعد ازاں عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 23ستمبرتک ملتوی کردی. قبل ازیں عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک ٹرائل کےلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا جبکہ سابق وزیراعظم کو عدالت پیش کرنے کے لئے درخواست بھی دائر کر دی گئی عمران خان کے وکلا نے انسداد دہشت گردی عدالت میں نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا، انسداد دہشت گردی عدالت نے چیلنج درخواست سماعت کے لئے منظور کر لی، وکلائے صفائی فیصل ملک اور بیرسٹر علی بخاری دلائل پیش کریں گے. وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ سرکاری پراسیکیوٹر کو بھی نوٹس دیا گیا ہے، فیصلے تک عمران خان کے ویڈیو لنک پر نہ آنے کا امکان ہے، فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عمران خان نے ویڈیو لنک ٹرائل سے وکلا کو منع کر دیا فیصل ملک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ویڈیو لنک سماعت فیئر ٹرائل کے خلاف اور وکلا ملزمان سے مشاورت بغیر ٹرائل نہیں کروا سکتے، آئین و قانون کے مطابق فیئر ٹرائل کے لیے وکلا کا ملزم کلائنٹ سے ملاقات اور مشاورت ضروری ہے. عدالت نے ویڈیو لنک سماعت کا ٹرانسکرپٹ حاصل کرنا بھی ممنوع قرار دے دیا، وکیل صفائی نے کہا ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل کے لیے طاقت کے استعمال کی کوشش ہوئی تو عمران خان ویڈیو لنک پر نہیں آئیں گے دوسری جانب وکیل صفائی فیصل ملک نے درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا کہ شفاف ٹرائل کے لئے عمران خان کو عدالت پیش کرنا لازم ہے. وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ فیئر ٹرائل ملزم کے بغیر کیسے ہو گا دیکھتے ہیں، سابق وزیراعظم کی عدالت طلبی کی درخواست دی ہے اور امید ہے عدالت طلبی کرے گی، یہ باہر کیا ماحول بنا دیا، حکومت خود فریق ہے اس لیے ویڈیو ٹرائل نہیں ہو سکتا. راولپنڈی انسداد دہشت گردی عدالت میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے، راولپنڈی پولیس کے 700 سے زائد پولیس اہلکار و افسران اے ٹی سی راولپنڈی تعینات کےلئے گئے ٹریفک روانی کے لیے 50 سے زائد ٹریفک اہلکار و افسران ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے. عدالت کے باہر کمشنر آفس تا ضلع کونسل گیٹ روڈ مکمل سیل کر دی گئی تھی ، وکلا، ملزمان، میڈیا کی گاڑیوں اور ڈی ایس این جیز کی یہاں پارکنگ بھی ممنوع قرار دی گئی جبکہ اضافی وکلا کے عدالت داخلے پر پابندی عائد کی گئی عدالت میں موبائل رکھنا اور ویڈیو بنانا بھی جرم قرار دیا گیا تھا عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل غیر آئینی غیر قانونی ہے، یہ تسلیم نہیں کریں گے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انسداد دہشت گردی عدالت کارروائی کا بائیکاٹ جی ایچ کیو حملہ کیس ویڈیو لنک ٹرائل صفائی فیصل ملک کہ ویڈیو لنک عمران خان کو ویڈیو لنک پر نے ویڈیو لنک وکیل صفائی عدالت میں ٹرائل کے عدالت نے کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس