Express News:
2026-07-24@10:24:13 GMT

غزہ کی پکار

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد عرب دنیا میں ایک ہلچل مچی اور صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مستقبل کے خطرناک عزائم کے آگے بند باندھنے کے لیے عرب ملکوں کا ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد کیا گیا۔

دوحہ میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک عرب ممالک کے سربراہوں نے حسب سابق گرم جوش تقاریر کیں اور اسرائیل کے خلاف خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ مظلوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے لے کر نیتن یاہو کے جنگی جرائم تک کا احاطہ کرتے ہوئے عرب سربراہوں نے اسرائیل کے تمام جارحانہ اقدامات اور اس کے مستقبل کے خوف ناک عزائم کی پرزور الفاظ میں بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسرائیل اور اس کے سرپرست اعلیٰ امریکا پر واضح کیا کہ آیندہ اگر اسرائیل نے کسی عرب ملک پر جارحیت کا ارتکاب کیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

اس ضمن میں عرب سربراہی اجلاس کا جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ قطر پر حملہ کر کے اسرائیل نے تمام ریڈ لائن کراس کر لی ہیں اسے اب کٹہرے میں لانا ہوگا۔ اعلامیے میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے تمام موثر قانونی اقدامات اٹھائیں جن میں سرفہرست سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر نظرثانی کرنا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنا شامل ہے۔

رکن ممالک میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت ختم کرانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔ اسرائیلی جنگی جرائم روکنے کے لیے عرب اسلامی ٹاسک فورس کے قیام کی بھی تجویز اعلامیے کا حصہ ہے۔

عرب سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ کھڑا ہے، ہمیں خاموش رہنے کے بجائے متحد ہونا پڑے گا اور اگر آج ہم نے ایسا نہ کیا تو اسرائیلی بربریت نہیں رکے گی۔ وزیر اعظم نے اسرائیل کے خلاف عرب ملکوں کی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت ختم کرنے کی تجویز کو بھی صائب قرار دیا۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی نے کہا کہ گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اسرائیلی جارحیت کا مقصد غزہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

فلسطینی صدر محمد عباس کا کہنا تھا کہ صورتحال کی نزاکت اور سنگینی کا تقاضا ہے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنا اور وہاں فوری امداد کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹری جنرل حسین طہٰ نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسرائیل کو اس کے تمام جرائم کا جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا عرب سربراہی اجلاس میں جو تجاویز اعلامیے کی شکل میں سامنے آئی ہیں، ان پر عمل درآمد کے لیے آنے والے دنوں میں کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر آپ ماضی قریب و بعید پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ فلسطین اور لبنان ایک سے زائد مرتبہ اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنتے رہے ہیں اور درجنوں مرتبہ او آئی سی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔

اسرائیل کے خلاف عرب سربراہوں نے پرجوش تقاریر کیں اور اسرائیل کے خلاف اقدامات کے اعلانات بھی کیے گئے، لیکن بات نشستند، گفتند، برخاستند سے آگے کچھ نہ بڑھ سکی اور اسرائیل نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکی آشیرباد سے فلسطین کے خلاف جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ ابھی ایک طرف عربوں کے ہنگامی سربراہی اجلاس کی گونج ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ اسرائیل نے غزہ شہر کے مرکز میں قدم رکھ دیے۔

فضائی و زمینی حملہ کرکے صہیونی فوج نے غزہ سٹی کے باسیوں کو فوری طور پر شہر خالی کرنے کی دھمکی دے کر انھیں بے دخل کرنا شروع کر دیا۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق تقریباً 40 فی صد فلسطینی باشندوں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا گیا ہے اور شہر خالی کروانا شروع کر دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے قیدیوں کو ڈھال بنایا تو وہ مصیبت میں پڑ جائے گی۔

اقوام متحدہ سمیت یورپی یونین، برطانیہ اور جرمنی نے اسرائیل کے اس جنگی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ 57 اسلامی ممالک کے لیے اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے ممکنہ خطرناک عزائم اور بڑھتے ہوئے توسیع پسندانہ گریٹر اسرائیل قدم کے آگے ہمالیہ جیسی رکاوٹ کھڑی کرنا ہوگی۔ غزہ کے معصوم، بھوک و پیاس سے سسکتے بچوں کی پکار کو سننا ہوگا۔

 سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ کیا سعودی عرب اور پاکستان مل کر فلسطین کو اسرائیلی مظالم سے نجات دلانے میں کوئی سرگرم کردار ادا کر سکیں گے؟ اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے خلاف سربراہی اجلاس اسرائیل نے کرتے ہوئے جارحیت کا اور اس کے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر ’چولپون آتا‘ میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل سینیٹر اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ روایتی گروپ فوٹو میں شرکت کی۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 is participating in the SCO Council of Foreign Ministers Meeting in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, today. He joined fellow Foreign Ministers of the SCO Member States for the traditional family photograph… pic.twitter.com/l0EDKploEP

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 24, 2026

ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں علاقائی امن و استحکام، سیکیورٹی، دہشتگردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط، تجارت، علاقائی رابطہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں تنظیم کے آئندہ سربراہ اجلاس کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اجلاس کے دوران رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

پاکستان کا مؤقف ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون، امن، اقتصادی ترقی اور رابطوں کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، اور پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم کرغزستان

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم