Jasarat News:
2026-07-24@02:59:59 GMT

سعودی عرب سے معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250920-01-20

 

 

اسلام آباد،لندن(نمائندہ جسارت ،مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے جو کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہے  جبکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دہائیوں پر مشتمل مضبوط شراکت داری کو باضابطہ شکل دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے اور مشترکہ سلامتی کو یقینی بناتا ہے، معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔شفقت علی خان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی فرمانروا کی دعوت پر 17 ستمبر کو سعودی عرب کا دورہ کیا، اس موقع پر وزیراعظم کا شاندار استقبال بھی کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سطح پر مذاکرات ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی سے دفاعی تعاون پاکستان سعودی تعلقات کا بنیادی ستون رہا ہے، اسی سلسلے کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان اور ولی عہد سعودی عرب نے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں منعقدہ ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت پر غور کیا گیا، جس کے بعد وزرائے خارجہ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ تیار کیا گیا جسے متفقہ طور پر منظور کرکے اسرائیلی حملے غیر قانونی و بلااشتعال قرار دیے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور ثالثی پر قطر کے کردار کو سراہا، پاکستان نے معاملہ انسانی حقوق کونسل جنیوا میں بھی اٹھایا اور فوری بحث کا مطالبہ کیا۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پاگیا اس میں کئی ماہ لگے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو ہونے والے کنونشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلیے دورہ کیا۔ لندن میں اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا معاہدہ بلا ضابطہ طور پر ہمیشہ سے موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن اس بارے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، وہ بھی اس معاہدے سے خوش ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پر پابندیوں کے بعد سعودی حمایت بڑی اہم تھی، ہر مسلمان تو ویسے بھی حرمین شریفین پر قربان ہونے کیلیے تیار ہوتا ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاک۔سعودی عرب دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شرکت کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم کچھ ممالک خواہش ضرور رکھتے ہیں۔دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خفیہ شرائط نہیں، کسی دوسرے ملک نے چاہا تو انھیں بھی معاہدے میں شامل کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے میں کوئی خفیہ شق موجود نہیں، اگر کوئی دوسرا ملک چاہے تو اس معاہدے میں اسے شامل کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا دائرہ کار دیگر ممالک تک بھی بڑھ سکتا ہے، کیوں کہ اپنی سلامتی کے لیے خطے کے ممالک کو میلوں دور کسی دوسرے ملک پر انحصار کرنے کے بجائے ایک خود مختار اور باصلاحیت ملک پر بھروسہ کرنا ہوگا جو انہیں حقیقی تحفظ فراہم کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوں گی، دنیا اس وقت ایٹمی جنگوں سے محفوظ ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی رہے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیخلاف جارحیت ہوئی تو سعودی عرب دفاع میں مدد کرے گا اور اگر سعودی عرب کیخلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان دفاع میں مدد کرے گا۔دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی دفاعی معاہدے نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں نئی جہت متعارف کروا رہا ہے اور اس کے اثرات بھارت سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تجزیہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی اتحاد ایک نئی دفاعی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکا پر خلیجی ریاستوں کے کم ہوتے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے نے خطے کو جھنجھوڑ دیا ہے اور اب واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا پر اپنا انحصار کم کر رہے ہیں۔امریکی تجزیہ کار مائیکل کوگلمین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چین، ترکی اور اب سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل ہے، جس سے پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ پاکستان اور سعودی عرب کہا کہ پاکستان دفاعی معاہدے سعودی عرب کے اسحاق ڈار نے کہ سعودی عرب دونوں ممالک معاہدے میں ڈار نے کہا کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل