Jasarat News:
2026-06-03@04:05:18 GMT

قطر پر اسرائیلی حملے کے مضمرات

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250920-03-7

 

جاوید احمد خان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام لیے بغیر دارالحکومت دوحا پر حالیہ اسرائیلی حملے کی متفقہ مذمتی قرارداد منظور کرلی۔ پاکستان کے مطالبے پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مذمتی بیان برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا۔ یہ بیان تمام 15 اراکین بشمول اسرائیل کے اتحادی امریکا کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔ امریکا عام طور پر اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم قرارداد آتی ہے تو اس کو ویٹو کردیتا ہے لیکن اس بار سلامتی کونسل کی بیان کی حمایت سے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حملے میں ناراضی ظاہر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیلی حملہ یو این چارٹر اور قطر کی سلامتی کے خلاف قرار دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے صرف قطر کو نہیں بلکہ عالمی امن کو نقصان پہنچایا ہے۔ سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے کشیدگی میں کمی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور قطر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، سلامتی کونسل کے بیان میں دوحا کو اہم ثالث قراردیا گیا جو اسرائیل اور حماس کے درمیان امن مذاکرات کے لیے امریکا اور مصر کے ساتھ کردار ادا کررہا ہے کونسل کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ اور انسانی تکالیف کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اجلاس کے لیے نیو یارک پہنچنے والے قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کونسل کی حمایت کا خیر مقدم کیا اور اپنے ملک کے ثالثی کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس سے پہلے یہ بیان بھی نظر سے گزر چکا ہے کہ دوحا اب ثالثی کا کردار ادا نہیں کرے گا لیکن اب سوچ تبدیل ہوگئی شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حملے کو پسند نہیں کیا۔ اسرائیل جو اس وقت بے نتھے کا بیل بنا ہوا ہے وہ جو چاہے کرتا پھرے کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں، اس لیے کہ امریکا اس کی پشت پر ہے لیکن اسرائیل نے قطر میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو ایک ہی ہلے میں صاف کردینے کا فیصلہ کیا وہ الٹا اس کے گلے پڑگیا دوسرے لفظوں میں یہ بیک فائر ہوگیا۔ پہلی بات تو یہی کہ اسرائیل کا یہ کہنا کہ ہم نے امریکا کو اعتماد میں لے لیا تھا اور اس کو اطلاع کردی تھی۔ کسی ہائر آفیشل کو اطلاع کردینے کا یہ مطلب کہاں سے ہوگیا کہ امریکی قیادت کو اعتماد میں لے لیا گیا اور پھر اطلاع بھی حملے سے کچھ چند منٹ پہلے کی گئی اگر دو گھنٹے پہلے اطلاع دیتے تو خدشہ تھا کہ کہیں امریکا کی طرف سے قطر کے رہنمائوں کو مطلع کردیا جائے اور قطری حکام بروقت حماس رہنمائوں کو مطلع کرکے میٹنگ کینسل کروادیں یا اجلاس کی جگہ بروقت تبدیل کردی جائے۔ یعنی ہلدی لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آوے۔ یہ بھی ہوجائے کہ ہم نے بروقت اطلاع کردی تھی اور حماس کی قیادت بچنے بھی نہ پائے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ واللہ خیرالمالکین اللہ بہترین چال چلنے والا ہے اسی کو ہم عام الفاظ میں یہ بھی کہتے ہیںکہ مارنے والے سے بچانے والا بہت بڑا ہے۔ اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حماس کی اعلیٰ قیادت اس حملے سے کیسے بچ گئی۔ اسرائیل کے پا س ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے وہ اپنے اہداف کے ٹھکانوں اور اس کی سرگرمیوں سے واقف رہتا ہے۔ دراصل موساد کے ایجنٹ پوری عرب دنیا کے ہر ملک کی جڑوں تک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایران میں پانچ لاکھ یہودی ہیں یہ سب تو موساد کے ایجنٹ تو نہیں ہوں گے لیکن ان کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ ضرور ہوں گی۔ پھر دوحا اور سعودی عرب میں امریکی اسلحوں کے ذخائر اور امریکی اڈے ہیں ان میں پتا نہیں کتنے موساد کے ایجنٹ ہوں گے۔ ایران میں جن سائنسدانوں اور سینئر سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے۔ اسرائیل نے تو اپنا بیس کیمپ ایران میں بنایا ہوا تھا اتنی بڑی تعداد میں موساد کے ایجنٹوں کا ہونا خود ایرانی حکومت کے لیے حیران کن تھا۔ بلکہ ایک دلچسپ بات یہ سننے میں آئی کے ایک دفعہ ایران حکومت نے ایک کمیٹی بنائی کہ یہ کمیٹی ملک میں موساد کے ایجنٹوں کو تلاش کرکے ان کی نشاندہی کرے گی تاکہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے بعد میں تحقیق کی تو پتا چلا کہ جس فرد کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا تھا وہ خود موساد کا ایجنٹ ہے۔ ایران اسرائیل جنگ میں شروع میں ایرانی میزائل بے اثر جارہے تھے۔ اس لیے کہ حکومت ایران کو یہ شک ہوگیا کہ جہاں سے میزائل داغے جارہے ہیں وہیں کہیں موساد کے ایجنٹ نہ گھسے بیٹھے ہوں اس لیے جب ایران نے سمندر کے اندر سے میزائل مارے ان سے اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور وہ سیز فائر پر راضی ہوا۔

اسرائیل نے اپنے خفیہ نٹ ورک کے ذریعے ایران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا، اسی طرح اس نے لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ نصر اللہ کو ان کے انتہائی محفوظ مقام پر شہید کیا، اسی طرح یحییٰ سنوار کو غزہ میں جنگ لڑتے ہوئے شہید کیا۔ اسرائیل کی کوشش یہ رہی ہے کہ حماس کی قیادت کو صاف کیا جائے تاکہ مذاکرات میں تاخیر ہو اسرائیل بظاہر تو دوحا میں ہونے والے مذاکرات میں بادل نہ خواستہ شریک ہوتا رہا ہے لیکن وہ مذاکرات نہیں چاہتا اس لیے وہ قطر میں حماس کی سینئر قیادت کو قتل کرنا چاہتا تھا اور اسی لیے اس نے تمام بین الاقوامی حدود و قیود کو پامال کرتے ہوئے اس عمارت پر حملہ کردیا جہاں حماس کی قیادت جنگ بندی کے سلسلے میں امریکی تجاویز پر غور و خوض کے لیے جمع ہوئی تھی۔ ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ حماس کے مرکزی رہنما اس حملے میں بچ کیسے گئے اس حوالے سے دو تھیوریز سامنے آرہی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اسماعیل ہنیہ، حزب اللہ کے رہنما اور دیگر کی اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ کی ٹیکنیک کو حماس کی قیادت سمجھ گئی اس لیے جب سارے رہنما جمع ہوگئے تو وہ عین وقت پر اپنے موبائل چھوڑ کر اس دوسری بلڈنگ میں چلے گئے جس کا راستہ اندر ہی سے تھا بعد میں دوسرے لوگ بھی جاتے لیکن اسی دوران حملہ ہوگیا چھے لوگ شہید ہوگئے، بقیہ حماس کی اعلیٰ قیادت بچ گئی دوسری تھیوری یہ ہے کہ یہ لوگ نماز پڑھنے کے لیے گئے تھے اور اپنے موبائل وہیں چھوڑ گئے تھے کہ موبائل کی سم جگہ کی نشان دہی کے کام آتی ہے۔ بہرحال کوئی بھی اسٹوری ہو حماس کی اعلیٰ قیادت بچ گئی اور مذاکرات کو سبو تاژ کرنے کا پروگرام ناکام ہوگیا لیکن ایک پہلو سے کامیابی بھی ملی کہ ساری توپوں کا رخ دوسری طرف ہوگیا اب او آئی سی کا اجلاس، عرب سربراہوں کا اجلاس اور دیگر اجلاس کی طرف سرگرمیاں ہوں گی اور اسرائیل کو موقع مل جائے گا کہ وہ غزہ سٹی میں داخل ہوجائے گا اس ساری اسرائیلی کمینگی میں امریکا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ امریکا کی دوغلی پالیسی کا اندازہ لگائیے کے ٹرمپ ایک طرف تو قطر کے سربراہ کو فون کرکے دوحا کی حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروارہے ہیں اور دوسری طرف ان کے وزیر خارجہ اسرائیل میں نیتن یاہو سے ملاقات کرکے کہہ رہے ہیں کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اس کا مطلب ہے کل کو اسرئیل کسی اور عرب ملک پر حملہ کرسکتا ہے کہ امریکا اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

حماس کے سربراہ خلیل الحیا تو اس حملے بچ گئے لیکن اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ حماس کی قیادت کو جہاں بھی جائے گی قتل کردیں گے ان ہی کے ساتھ خالد مشعل بھی ہیں جو حماس کا اصل دماغ ہیں اسرئیل ان کا بہت پہلے سے جانی دشمن ہے۔

1997 میں یہ اردن میں حماس کی ذمے داری سنبھالے ہوئے تھے اور وہاں سے وہ اسرائیل کے خلاف پراکسی وار کی منصوبہ بندی کرتے تھے ایک دفعہ ایک ہوٹل میں ان کی میٹنگ تھی وہاں اسرائیل کے آٹھ کمانڈوز آئے چھے تو باہر کھڑے رہے دو اندر گئے اور خالد مشعل کے قریب جاکر ان کے کان میں کوئی ایسی دوا ڈالی کہ وہ کومے میں چلے گئے خالد مشعل کے گارڈز نے ان دونوں کمانڈوز کو پکڑلیا باقی چھے جو باہر تھے وہ بھاگ لیے یہ دونوں جیل چلے گئے۔ اب اسرائیل نے ان دونوں کمانڈوز کو چھڑانے کی بہت کوششیں کی اردن میں شاہ حسین کی حکومت تھی انہوں نے سخت ایکشن لیا اور کہا کہ ان دونوں کمانڈوز کو سخت سزا دی جائے گی اسرائیل نے امریکا سے اپروچ کیا اس وقت بل کلنٹن امریکا کے صدر تھے۔ شاہ حسین بھی ڈٹ گئے انہوں نے بل کلنٹن سے کہا اسرائیل اس کی اینٹی ڈوز لائے اور خالد مشعل کو کومے سے باہر نکالے بالآخر اسرائیل کو بات ماننا پڑی اس وقت بھی نیتن یاہو اسرائیلی کابینہ کے رکن تھے۔ اسرائیل کے ڈاکٹرز آئے اور انہوں نے اینٹی ڈوز لگا کر خالد مشعل کو کومے سے باہر نکالا لیکن اس کے بعد بھی اردن نے کمانڈوز کو نہیں چھوڑا اور اسرائیل کی قید میں کئی سو فلسطینیوں کو جیل سے رہائی دلوائی پھر ان کمانڈوز کو چھوڑا گیا جب کوئی حکمران ڈٹ جائے تو بڑے بڑوں کو جھکنا پڑتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موساد کے ایجنٹ حماس کی قیادت سلامتی کونسل حماس کی اعلی اسرائیل نے اسرائیل کے کمانڈوز کو ایران میں کے سربراہ خالد مشعل انہوں نے کونسل کے قیادت کو کے ساتھ کے خلاف لیکن اس حماس کے اس حملے کے لیے قطر کے اس لیے اور اس

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان