گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے اور خائن حکومت کی بے حسی پر شامی عوام میں تشویش کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
سیاسی تجزیہ کار وائل امین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے عملی طور پر جنوبی شام پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور احمد الشعراء (جولانی) کا اس علاقے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت اور قبضے کی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی نیوز نیٹ ورک نے خبر دی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کو صیہونی حکومت کے حوالے کرنے سے شامی شہری غیر مطمئن اور ناراض ہیں۔ العہد نیوز نیٹ ورک نے اپنی ایک رپورٹ میں شامی سرزمین پر اسرائیلی حکومت کی جارحیت اور قبضے میں توسیع کے بارے شامی عوام میں تشویش کا ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت نے اپنی جارحیت اور قبضے کو جاری رکھتے ہوئے قنیطرہ اور درعا کے نواحی علاقوں میں بنکر تعمیر کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شامی عوام کے مختلف طبقات اپنے ملک کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت پر سخت ناراض ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار وائل امین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے عملی طور پر جنوبی شام پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور احمد الشعراء (جولانی) کا اس علاقے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے اور غاصبوں کے حملوں نے شام کے پوری سرزمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت کی جارحیت صیہونی حکومت
پڑھیں:
ویزہ اوور سٹے پر ڈی پورٹ ہونے والوں کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنا غیر قانونی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2026ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک سے صرف ویزہ اوور سٹے یعنی ویزہ کی مقررہ مدت سے زائد قیام کی بنیاد پر ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی شہریوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے حکومتی عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری کسی دوسرے ملک میں محض اپنے ویزے کی مدت ختم ہونے یعنی اوور سٹے کی وجہ سے پاکستان واپس ڈی پورٹ کیا جاتا ہے، تو اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ محض ویزہ اوور سٹے کی بنیاد پر بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونا کسی بھی شہری کے بیرونِ ملک سفر کرنے اور وہاں روزگار حاصل کرنے کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔(جاری ہے)
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت یا متعلقہ ادارے کسی بھی شہری کے سفر پر اس وقت تک پابندی عائد نہیں کر سکتے جب تک کہ اس کے خلاف کسی باقاعدہ سنگین جرم کا ثبوت نہ ہو، وہ ملک کے لیے کوئی سکیورٹی خدشہ نہ بن چکا ہو، یا اس کے خلاف کسی اور مجرمانہ سرگرمی کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود نہ ہو۔
اہم خبر ، دوسرے ملک میں صرف اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے والے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی قرار دے دیا " جب تک کوئی جرم ثابت نا ہو تب تک سفری پابندی عائد کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے " اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ pic.twitter.com/zbQ5TmsKcV
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 3, 2026 امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس فیصلے سے ان ہزاروں پاکستانیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو نادانستگی میں یا مجبوری کے تحت بیرونِ ملک ویزے کی مدت ختم ہونے پر ڈی پورٹ کر دیئے جاتے تھے اور پاکستان پہنچنے پر ایف آئی اے یا پاسپورٹ حکام ان کا نام کنٹرول لسٹ میں ڈال کر ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیتے تھے، جس سے ان کے دوبارہ بیرونِ ملک جانے کے تمام راستے بند ہو جاتے تھے، عدالت نے اب اس عمل کو قانون کے منافی قرار دے دیا ہے۔