سیاسی تجزیہ کار وائل امین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے عملی طور پر جنوبی شام پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور احمد الشعراء (جولانی) کا اس علاقے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت اور قبضے کی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی نیوز نیٹ ورک نے خبر دی ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کو صیہونی حکومت کے حوالے کرنے سے شامی شہری غیر مطمئن اور ناراض ہیں۔ العہد نیوز نیٹ ورک نے اپنی ایک رپورٹ میں شامی سرزمین پر اسرائیلی حکومت کی جارحیت اور قبضے میں توسیع کے بارے شامی عوام میں تشویش کا ذکر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت نے اپنی جارحیت اور قبضے کو جاری رکھتے ہوئے قنیطرہ اور درعا کے نواحی علاقوں میں بنکر تعمیر کر لیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شامی عوام کے مختلف طبقات اپنے ملک کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت پر سخت ناراض ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار وائل امین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے عملی طور پر جنوبی شام پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور احمد الشعراء (جولانی) کا اس علاقے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شام کی سرزمین پر صیہونی حکومت کی جارحیت جاری ہے اور غاصبوں کے حملوں نے شام کے پوری سرزمین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حکومت کی جارحیت صیہونی حکومت

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم