جامعہ میں جدید مضامین کا تعارف قابل ستائش ہے، گورنر جعفر مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
کوئٹہ میں جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ عصر حاضر کے تقاضوں اور یونیورسٹی کے مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات سے وسائل کے استعمال میں بہتری آئیگی اور تعلیم کے شعبے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں بعض غیر ضروری ڈیپارٹمنٹس کو ختم کرنا اور مارکیٹ کی ضرورت اور روزگار کے امکانات سے منسلک مضامین کا متعارف کرانا ایک قابل ستائش بصیرت ہے۔ کافی سوچ بچار اور باہمی مشاورت کے بعد دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کیلئے بھی ہم متعدد قابل تقلید مثال قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی یونیورسٹی میں دو متعلقہ ڈیپارٹمنٹس جیسے جیوفزکس کو جیالوجی، سیسمولوجی (Seismology) کو فزکس، رینیوبل انرجی کو اینوائرمنٹل سائنسز، انتھروپولوجی (Anthropology) کو سوشیالوجی اور کامرس کو انسٹیٹیوٹ آف منجمنت سائنسز میں ضم کرنا بذات خود دانشمندانہ فیصلے ہیں۔ اس کے برعکس ان ضروری مضامین جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) وغیرہ کا یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار ڈیپارٹمنٹ کا آغاز موجودہ تقاضوں اور ابھرتی ہوئی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی ایک انوکھی مثال ہے۔ ایسے انقلابی اقدامات ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو مؤثر طریقے سے کامیاب اور محفوظ بناتے ہیں۔
گورنر مندوخیل یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی اور وژن کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا کہ عصر حاضر کے تقاضوں اور یونیورسٹی کے مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات سے وسائل کے استعمال میں بہتری آئیگی اور تعلیم کے شعبے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آجکل اسٹوڈنٹس بھی فیوچر ویلیو اور روزگار کے مواقع پر مبنی کورسز کا انتخاب کرتے ہیں تاہم ہماری یونیورسٹیوں اور ان کے کیمپسز میں ایک تلخ حقیقت موجود ہے کہ بعض ڈیپارٹمنٹس میں اساتذہ کی تعداد طلباء سے زیادہ ہے۔ یہ وسائل کے ضیاع کا باعث ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ موجودہ حکومت مادری زبانوں کی ترقی و ترویج کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ مادری زبانیں ہماری قومی پہچان ہیں۔ ان کی حقانیت ماں کی لازوال ممتا کی وجہ سے قائم ہے اور مادری زبان ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت کی منتقلی کا طویل سلسلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی برس سے کالجز میں بی ایس کورسز شروع کرانے کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان کے لینگویج ڈیپارٹمنٹس اردو، بلوچی، پشتو، براہوی اور فارسی میں طلباء کی تعداد کم ہو چکی ہے، لہٰذا ہم تمام لینگویجز کیلئے ایک مشترکہ "انسٹیٹیوٹ آف لینگویسٹک" بنا رہے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ یہ تمام لینگویجز کے درمیان روابط بڑھانے کا معتبر وسیلہ بھی بنے گا۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم من حیث القوم ترقی اور ارتقاء کے سفر میں دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کے مقابلے میں پیچھے رہ چکے ہیں۔ سردست اس گلوبل ویلیج میں مختلف زبانوں اور گلوبل سیویلائزیشن میں ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے لہٰذا ہمارے پالیسی میکرز اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترقی یافتہ زبانوں میں قیمتی علمی و سائنسی مواد کو اپنی مادری زبانوں میں ترجمہ کرانے کیلئے جامع حکمت عملی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.