سوشل میڈیا پر دولت کی نمود و نمائش کرنے والے امیروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایف بی آر نے کم ٹیکس دینے والے اور ٹیکس نیٹ سے باہر سوشل میڈیا پر دولت کی نمود و نمائش کرنے والے امیر لوگوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر سوشل میڈیا ٹیم نے شاہانہ لائف اسٹائل رکھنے والے ایک لاکھ امیر افراد کا ڈیٹا جمع کر لیا، بڑے بڑے بنگلوں، چمچماتی گاڑیوں، زیورات کی نمائش کرنے والوں کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق شادیوں پر شاہانہ اخراجات کرنے والے بھی زد میں آئیں گے، شادیوں پر بیس، بیس ہزار ڈالرمالیت کے سوٹ استعمال کیئے جارہے ہیں، انکم ٹیکس گوشواروں میں شاہانہ لائف اسٹائل ظاہر نہ کرنے والے پکڑمیں آئیں گے۔
ایف بی آر نے کہا کہ گزشتہ سال جمع کرائے گئے گوشواروں کا اس سال سے موازنہ کرے گا، مجموعی گوشواروں میں سے 80 فیصد کا آڈٹ کیا جائےگا، دولت کی نمائش کرنے والوں کو ٹیکس ریٹرن کے ذریعے ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق گوشواروں میں سالانہ آمدن کا اضافہ ظاہرنہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، ایسے لوگ قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹیکس ریٹرن اپ ڈیٹ کر لیں۔
ایف بی آر نے انتباہ کیا کہ انکم ٹیکس گوشواروں میں اپ ڈیٹڈ معلومات دینے والوں کو فی الحال کچھ نہیں کہا جائے گا۔
https://www.
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان گوشواروں میں کرنے والے ایف بی آر
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :