متعدد فرانسیسی میئرز کا فلسطینی پرچم لہرانے کا ارادہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 21 ستمبر 2025ء) اس ہفتے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے، جن میں فلسطینی پرچم اور بینرز نمایاں طور پر لہراتے نظر آئے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر فلسطین کو مزید ممالک کی جانب سے تسلیم کیے جانے کی امید ہے، جس سے ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 145 سے تجاوز کر جائے گی۔
پیرس کے مضافاتی علاقے سان ڈینس کے میئر اور مغربی فرانس کے شہر نانٹیس کیمیئر نے بھی فلسطینی پرچم لہرانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب وزارت داخلہ نے ریاستی نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات کی مخالفت کریں۔
سیاق و سباقفرانس یورپ کا وہ ملک ہے جہاں سب سے بڑی یہودی اور مسلم آبادی رہتی ہے، اس لیے اس طرح کے اقدامات حساسیت کا باعث بن سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیل- فلسطینی تنازعہ فرانس میں بھی سیاسی اور سماجی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی اُمیدفلسطینیوں نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کم از کم 10 مزید ممالک فلسطین کی ریاست کو تسلیم کریں گے، جس سے ان ممالک کی تعداد 145 سے زیادہ ہو جائے گی جو پہلے ہی ایسا کر چکے ہیں۔
سینٹ ڈینس (پیرس کے مضافات میں واقع شہر) کے میئر میتھیو ہانوتین نے کہا کہفلسطینی عوام سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر سٹی ٹاؤن ہال پر فلسطینی پرچم لہرایا جائے گا۔
مغربی فرانس کے شہر نانٹیس میں بھی سٹی ہال کی عمارت پر فلسطینی پرچم لہرانے کا منصوبہ ہے، جیسا کہ خاتون میئر ژوہانا رولنڈ (سوشلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاست دان) نے نشریاتی ادارے فرانس انفارمیشن کو بتایا، ''ان میونسپلٹیوں کے لیے جو اس علامتی اقدام کے ذریعے فرانس کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے میں شامل ہونا چاہتی ہیں ، میرے خیال میں یہ بالکل درست ہے۔ میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسا کروں گی۔‘‘ فرانسیسی وزارت داخلہ کی مخالفتدریں اثناء ریجنز میں ریاست کے نمائندے کو بھیجے گئے ایک نوٹ میں، فرانس کی وزارت داخلہ نے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ ٹاؤن ہالز اور دیگر عوامی عمارتوں پر فلسطینی پرچم لہرانے کی مخالفت کریں، کیونکہ اس سے جاری بین الاقوامی تنازعے کو قومی سرزمین پر درآمد کرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا، ''پبلک سروس میں غیر جانبداری کے اصول کے تحت اس طرح کی کوئی بھی نمائش ممنوع ہے۔‘‘ مزید برآں کہا گیا کہ اگر کسی میئر نے فلسطینی پرچم لہرانے کا فیصلہ کیا تو اس معاملے کو انتظامی عدالتوں میں لے جایا جائے۔
وزیر داخلہ برونو ریٹائیلیو نے ہفتے کے روز کہا، ''ٹاؤن ہال کا اگلا حصہ کوئی بل بورڈ نہیں ہے۔ صرف تین رنگوں والا پرچم ہمارے رنگ، ہماری اقدار ہی یہاں لہرایا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ہمارا ایک مشترکہ گھر ہے۔‘‘
ادارت: افسر اعوان/ رابعہ بگٹی
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فلسطینی پرچم لہرانے کا وزارت داخلہ پر فلسطین
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔