’اب ٹیم کی نظریں سری لنکا کے خلاف میچ پر ہیں‘، بھارت سے شکست کے بعد سلمان علی آغا کا بیان
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم سلمان آغا نے کہا کہ بھارت کے بیٹرز نے پاور پلے میں میچ کو اپنے حق میں موڑ لیا۔ ان کے مطابق پاکستان کو 10 اوورز میں 91 رنز بنانے کے بعد مزید کم از کم 15 رنز کا اضافہ کرنا چاہیے تھا، تاہم 171 رنز بھی ایک اچھا مجموعہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بولرز کے انتخاب میں وہ ’صحیح جگہ، صحیح وقت‘ کے فارمولے پر یقین رکھتے ہیں، اور حارث رؤف و فہیم اشرف نے اچھی بولنگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ٹیم کی نظریں سری لنکا کے خلاف میچ پر مرکوز ہیں۔
بھارتی کپتان کا ٹیم کی کاکردگی پر خوشی کا اظہاربھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستان کے خلاف کامیابی کے بعد ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے دباؤ کے باوجود پرسکون انداز میں کھیل پیش کیا، جس سے ان کا کام آسان ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ سپر فور مرحلے کا اہم ٹاکرا: بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی
سوریا نے کہا کہ پاکستان کے ابتدائی 10 اوورز میں 91 رنز بنانے کے باوجود ٹیم بالکل پرسکون تھی، اور انہوں نے ڈرنکس کے دوران کھلاڑیوں کو یاد دلایا کہ اصل کھیل اب شروع ہوگا۔
انہوں نے شیوَم دوبے کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ ’وہ روبوٹ نہیں ہے، کبھی کبھی برا دن بھی آسکتا ہے، لیکن جس طرح وہ واپس آتا ہے، وہ واقعی خوشی کی بات ہے۔ اس بار بھی اس نے مشکل وقت میں ہمیں سہارا دیا۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ سپر فور: فخر زمان کو غلط آؤٹ دیا گیا، سوشل میڈیا پر بحث
سوریا نے شبھمن گل اور ابھیشیک شرما کی شراکت کو ’فائر اینڈ آئس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور ان کی بیٹنگ دیکھنا ہمیشہ لطف اندوز ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہدف کے تعاقب میں کسی ایک بیٹر کو 10 سے 12 اوورز کھیلنا ضروری تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈنگ کوچ ٹی دلیپ نے کیچز چھوڑنے پر تمام کھلاڑیوں کو ای میل بھیجی ہے۔ سوریا کے بقول، ’ہم بٹر فنگرز ہیں، لیکن اسے جلد درست کرلیں گے۔‘
دوسری جانب بھارتی اوپنر ابھیشیک شرما 74 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر مین آف دی میچ قرار پائے۔ انہوں نے 39 گیندوں پر 6 چوکوں اور 5 چھکوں کی مدد سے یہ اسکور بنایا۔ بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک نے کہا کہ آج ان کا منصوبہ بالکل واضح تھا ’وہ جس طرح ہم پر دباؤ ڈال رہے تھے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں آیا اور یہی واحد طریقہ تھا کہ میں انہیں جواب دے سکوں۔‘
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے دوران حارث رؤف اور ابھیشیک شرما کے درمیان تلخ کلامی
انہوں نے مزید کہا کہ وہ شُبھمن گل کے ساتھ اسکول کے زمانے سے کھیل رہے ہیں اور اس طرح کی پارٹنرشپ کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی ضرورت یہی ہے کہ وہ اسی جارحانہ انداز میں کھیلیں، اور یہ ممکن اس لیے ہے کیونکہ پوری ٹیم انہیں اسی اسٹائل میں کھیلنے کی مکمل حمایت دیتی ہے، اگرچہ یہ ہائی رسک گیم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ابھیشک شرما ایشیا کپ بھارت پاکستان سلمان علی آغا سوریا کمار یادیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابھیشک شرما ایشیا کپ بھارت پاکستان سلمان علی ا غا سوریا کمار یادیو انہوں نے ایشیا کپ تھا کہ ٹیم کی کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔