سٹی42: مرکزی اور جنوبی پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سیلابی پانی اب سندھ کے شہروں اور قصبوں میں بھی تباہی پھیلانے لگا ہے۔ خیرپور میں  کمسن بچی پانی میں بہہ گئی، جس کے بعد شہر میں 3دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد 3ہوگئی ہے۔

اوچ شریف میں مویشی بچاتے ہوئے شخص جاں بحق:

ضلع بہاولپور کے سیلاب زدہ علاقے اوچ شریف میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں چھ بچوں کے باپ اختر اپنے مویشیوں کو بچاتے ہوئے تیز پانی کی نذر ہوگیا۔ متوفی کی بیوی نے حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنا گھر کھو چکی ہے، اب شوہر بھی چلا گیا ہے اور بچوں کا مستقبل غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

فخر آؤٹ نہیں تھا لیکن۔۔۔ گرین شرٹس کیپٹن نے میدان کے باہر اعلیٰ کرکٹ دکھا دی

سیلاب کا پانی سعیدی موسانی شہر میں داخل:

ضلع دادو کی تحصیل مہر میں دریائے سندھ کے سیلابی پانی نے شدید تباہی مچائی ہے۔ سیلاب کا پانی سعیدی موسانی شہر سمیت پانچ دیہاتوں میں داخل ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں، دکانوں، قبرستانوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی مدد نہیں پہنچی۔

’کم چُک کے رکھ‘، حارث رؤف کے بھارتیوں کو چھ مئی جنگ کا سکور  0-6 یاد دلانے پر وزیر دفاع کابیان

مبارک پور میں خاندان بے گھر:

مبارک پور میں دریائے ستلج کے قہر سے ایک ہی خاندان کے 35 سے 40 افراد بے گھر ہوگئے جب ان کے گھر کے 11 کمرے پانی میں بہہ گئے۔ متاثرہ خاندان نے حکومت سے فوری امداد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

کہروڑ پکا میں تباہی، ہزاروں افراد متاثر:

کہروڑ پکا میں سیلاب نے درجنوں دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، علاقے کے 106 دیہاتوں میں سے 40 براہ راست متاثر ہوئے ہیں، جب کہ 15,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 25,000 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔

فلسطین کے ایریا A,  ایریا B اور ایریا C کیا ہیں

کھاریاں میں بیماریوں کی وبا پھوٹ پڑی:

کھاریاں میں سیلابی پانی جمع ہونے کے باعث مختلف علاقوں میں بیماریاں پھیلنے لگی ہیں، اور پانی جراثیموں کی افزائش گاہ بن چکا ہے۔ لوگ طبی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

عارف والا، پاکپتن اور قبولہ میں متاثرین حکومتی امداد کے منتظر:

عارف والا میں ہزاروں متاثرینِ سیلاب حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فصلیں، مال مویشی اور دیگر قیمتی اشیاء سب تباہ ہو چکی ہیں اور وہ اپنے زور پر دوبارہ زندگی شروع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اسی طرح پاکپتن اور قبولہ میں بھی متاثرین ایک ماہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور حکومت سے فوری امداد کی اپیل کر رہے ہیں۔

مغربی کنارے کا الحاق "ریڈ لائن"ہے, سعودی عرب کی اسرائیل کو وارننگ

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب