اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 ستمبر2025ء) چاند نظر آیا یا نہیں؟ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ماہ ربیع الثانی کے چاند کی رویت کا اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق واضح رہے کہ ربیع الثانی 1447ھ کے چاند کی رویت کے لیے اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج بروز منگل شام 6 بجے وزارت مذہبی امور، کوہسار بلاک کی چھت پر منعقد ہوا۔ جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس بھی اسلام آباد میں ہوا۔
اجلاس کے دوران مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو چاند کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہ ہوئی جس کے بعد چئیرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ منگل کے روز ملک کے کسی علاقے سے چاند کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہ ہوئی، لہذا پاکستان میں یکم ربیع الثانی 25 ستمبر بروز جمعرات کو ہو گی۔(جاری ہے)
اس سے قبل سپاروکو کی جانب سئ یکم ربیع الثانی 1447 ہجری 24 ستمبر 2025 کو ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
ترجمان سپارکو کے مطابق ربیع الثانی 1447 ہجری کا نیا چاند 22 ستمبرکو رات 12 بج کر54 پرپیدا ہو چکا۔ یوں آج 23 ستمبر کو غروب آفتاب تک نئے چاند کی عمر 41 گھنٹے 54 منٹ ہو چکی۔ ساحلی علاقوں میں غروب آفتاب اور غروب ماہتاب کے درمیان 46 منٹ کا دورانیہ متوقع ہے۔ترجمان کے مطابق آج نئے چاند کی رویت کے بہت اچھے امکانات ہیں، چاند کی تاریخ بارے حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی، رویت موصول ہونے والی معتبر شہادتوں کی بنیاد پر چاند کی تاریخ کا فیصلہ ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی ربیع الثانی چاند کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔