لاہور سے کراچی جانے والی فرید ایکسپریس کوٹری اسٹیشن پر پٹڑی سے اتر گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
واضح رہے کہ 22 ستمبر کو کراچی سے یوسف والا جانے والی مال بردار ٹرین کی 13 بوگیاں میٹنگ اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی تھیں جس کے سبب اَپ ٹریک بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ملک میں ٹینوں کے حادثات معمول بن گئے، لاہور سے کراچی جانے والی 38 ڈاؤن فرید ایکسپریس کوٹری ریلوے جنکشن پلیٹ فارم دو پر داخل ہوتے ہوئے ہی ڈی ریل ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی تاہم حادثے کے بعد ڈاون ٹریک پر ٹرینوں کی آمدرفت معطل ہو گئی۔ بوگیوں کی بحالی کے لیے ریلوے عملہ اور کرین طلب کر لی گئی، حادثے کے بعد متاثرہ بوگیوں کے مسافروں کو دوسری بوگیوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔مسافروں کو دیگر ٹرین کی بوگیوں میں منتقل کر کے منزل کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے، ٹریک کی بحالی میں پانچ سے زائد گھنٹے لگیں گے۔ واضح رہے کہ 22 ستمبر کو کراچی سے یوسف والا جانے والی مال بردار ٹرین کی 13 بوگیاں میٹنگ اسٹیشن کے قریب پٹڑی سے اتر گئی تھیں جس کے سبب اَپ ٹریک بری طرح متاثر ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جانے والی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔