کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع سوفٹ ویئرہاؤس (کال سینٹر) میں لڑکی کو ہراساں کرنے اور فائرنگ کے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کرلیے گئے اور پولیس نے واقعے میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق گلشن اقبال بلاک 6 میں سوفٹ ویئرہاؤس(کال سینٹر) میں  لڑکی کو ہراساں کرنے اورفائرنگ کے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کرلیے گئے، پہلا مقدمہ متاثرہ خاتون کے والد سید شعیب حسین کی مدعیت میں خاتون کو ہراساں کرنے، حبس بے جا میں رکھنے، جان سے مارنے اورجھگڑے سمیت دیگردفعات کے تحت درج کیا گیا۔

مدعی مقدمہ کے مطابق ان کی بیٹی گزشتہ تین سال سے کال سینٹرمیں بحیثت کسٹمر لیڈر کام کررہی تھی، برانچ منیجر دانیال بیٹی کو ہراساں کرتا اورنازیبا حرکات کرتا تھا۔

بیٹی نے گھر آکر اپنے بھائی کو بتایا  اور بیٹے نے مجھے بتایا، منگل کو میرے بھانجے  نے دانیال کو فون کرکے کہا کہ تم میری بہن کو کیوں ہراساں کرتے ہو تو دانیال نے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

بعد میں بیٹی آفس گئی تو دانیال نے میرے بھانجے کو فون کر کے کہا کہ تم آئے نہیں، میرے پاس تم جو کرسکتے ہو کرلو، بیان کے مطابق والدہ نے کہا کہ میں اپنی بہن زرینہ اوربھانجوں محمد ماجد ، سلمان خان، سید سلمان اور فیضان کے ہمراہ بیٹی کے آفس پہنچا تو انھوں نے آفس اندرسے بند کردیا، ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا توانھوں نے دروازہ نہیں کھولا اور بیٹی کوکافی دیرتک حبس بےجا میں رکھا۔

دروازہ نہیں کھول رہے تھے تو میں  اور بھانجے دروازہ توڑ کر اندرچلے گئے، اس دوران  برانچ منیجر دانیال نے گالم گلوچ شروع کردی، اسی دوران ذوالفر نین نے اسلحہ نکال لیا اور ہوائی فائرنگ کی جس پر میرے بھانجے محمد ماجد نے بھی جوابی فائرنگ کی تو آفس کے گارڈز عمران، رضا نے بھی اپنے اسلحہ سے فائرنگ کی تو کسی نے واقعہ کی اطلاع مدد گار 15 پولیس کو کردی۔

اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچی اور پولیس نے فائرنگ کرنے والے افراد محمد ماجد، ذوالقرنین، فیضان، عمران علی، رضا محمد اور ہنگامہ کرنے والے سلمان خان، سید سلمان ، سید دانیال حسین کو گرفتار کرلیا۔

گرفتارملزمان محمد ماجد ، ذوالقرنین ، فیضان ، عمران اور رضا محمد سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔

ایس ایچ او گلشن اقبال نعیم راجپوت نے ایکسپریس کو بتایا کہ لڑکی کو ہراساں کرنے، فائرنگ اور جھگڑے کرنے کے الزام میں 8 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے جب کہ پولیس نے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کئے ہیں۔

گرفتار پانچ افراد سے اسلحہ برآمد کیا گیا تھا جن کے خلاف غیر قانونی اسلحے کی دفعات کے تحت 5 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پر 6 مقدمات درج لڑکی کو ہراساں کو ہراساں کرنے

پڑھیں:

کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ

 ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے لیے ’’روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک پولیس نے شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی، روڈ سیفٹی کے فروغ اور عوام دوست پولیسنگ کے وژن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ" قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

روڈ سیفٹی آفیسرز شہر کی اہم اور مصروف شاہراہوں بشمول شاہراہ فیصل ، ماڑی پور روڈ ، کورنگی روڈ اور شاہراہ لیاقت پر تعینات کیے جائیں گے جہاں وہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے، شہریوں کو متبادل راستوں اور سفری سہولیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور بروقت مدد کے فرائض انجام دیں گے۔

ترجمان کے مطابق یونٹ کے قیام سے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول میں رہنمائی ملے گی ، یہ یونٹ شہریوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کے فوری حل اور مؤثر رہنمائی میں اہم کردار ادا کریگا۔

یونٹ کا مقصد ٹریفک قوانین ، روڈ سیفٹی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرز ڈرائیونگ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر اور اس میں مزید اضافہ کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق