کراچی: سوفٹ ویئرہاؤس میں لڑکی کو ہراساں اور فائرنگ کرنے پر 6 مقدمات درج، 8 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع سوفٹ ویئرہاؤس (کال سینٹر) میں لڑکی کو ہراساں کرنے اور فائرنگ کے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کرلیے گئے اور پولیس نے واقعے میں ملوث 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق گلشن اقبال بلاک 6 میں سوفٹ ویئرہاؤس(کال سینٹر) میں لڑکی کو ہراساں کرنے اورفائرنگ کے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کرلیے گئے، پہلا مقدمہ متاثرہ خاتون کے والد سید شعیب حسین کی مدعیت میں خاتون کو ہراساں کرنے، حبس بے جا میں رکھنے، جان سے مارنے اورجھگڑے سمیت دیگردفعات کے تحت درج کیا گیا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق ان کی بیٹی گزشتہ تین سال سے کال سینٹرمیں بحیثت کسٹمر لیڈر کام کررہی تھی، برانچ منیجر دانیال بیٹی کو ہراساں کرتا اورنازیبا حرکات کرتا تھا۔
بیٹی نے گھر آکر اپنے بھائی کو بتایا اور بیٹے نے مجھے بتایا، منگل کو میرے بھانجے نے دانیال کو فون کرکے کہا کہ تم میری بہن کو کیوں ہراساں کرتے ہو تو دانیال نے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔
بعد میں بیٹی آفس گئی تو دانیال نے میرے بھانجے کو فون کر کے کہا کہ تم آئے نہیں، میرے پاس تم جو کرسکتے ہو کرلو، بیان کے مطابق والدہ نے کہا کہ میں اپنی بہن زرینہ اوربھانجوں محمد ماجد ، سلمان خان، سید سلمان اور فیضان کے ہمراہ بیٹی کے آفس پہنچا تو انھوں نے آفس اندرسے بند کردیا، ہم نے دروازہ کھٹکھٹایا توانھوں نے دروازہ نہیں کھولا اور بیٹی کوکافی دیرتک حبس بےجا میں رکھا۔
دروازہ نہیں کھول رہے تھے تو میں اور بھانجے دروازہ توڑ کر اندرچلے گئے، اس دوران برانچ منیجر دانیال نے گالم گلوچ شروع کردی، اسی دوران ذوالفر نین نے اسلحہ نکال لیا اور ہوائی فائرنگ کی جس پر میرے بھانجے محمد ماجد نے بھی جوابی فائرنگ کی تو آفس کے گارڈز عمران، رضا نے بھی اپنے اسلحہ سے فائرنگ کی تو کسی نے واقعہ کی اطلاع مدد گار 15 پولیس کو کردی۔
اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچی اور پولیس نے فائرنگ کرنے والے افراد محمد ماجد، ذوالقرنین، فیضان، عمران علی، رضا محمد اور ہنگامہ کرنے والے سلمان خان، سید سلمان ، سید دانیال حسین کو گرفتار کرلیا۔
گرفتارملزمان محمد ماجد ، ذوالقرنین ، فیضان ، عمران اور رضا محمد سے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔
ایس ایچ او گلشن اقبال نعیم راجپوت نے ایکسپریس کو بتایا کہ لڑکی کو ہراساں کرنے، فائرنگ اور جھگڑے کرنے کے الزام میں 8 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے جب کہ پولیس نے واقعے کے مجموعی طور پر 6 مقدمات درج کئے ہیں۔
گرفتار پانچ افراد سے اسلحہ برآمد کیا گیا تھا جن کے خلاف غیر قانونی اسلحے کی دفعات کے تحت 5 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پر 6 مقدمات درج لڑکی کو ہراساں کو ہراساں کرنے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔