اسرائیلی فوج نے غزہ پر بمبار ی اور فائرنگ:ایک ہی دن میں 63 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز غزہ کی پٹی میں وحشیانہ بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 63 فلسطینیوں کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی کر دیا۔
طبی ذرائع اور سول ڈیفنس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔غزہ سِول ڈیفنس کے بیان میں کہا گیا کہ غزہ شہر کے علاقے الدرج میں بے گھر فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والی فضائی کارروائی میں 22 افراد شہید ہوئے جن میں 9 بچے اور 6 خواتین شامل ہیں۔ اسی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر بمباری کے نتیجے میں مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
شہر کے دیگر علاقوں میں بھی کئی حملے کیے گئے۔ صبرا محلے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ الرمال کے علاقے میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔ تل ہوہ میں بے گھر فلسطینیوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں 2 افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ شجاعیہ میں بھی فضائی بمباری سے 2 شہری جاں بحق ہوئے۔
ادھر وسطی غزہ میں النصیرات پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک بے گھر فلسطینیوں کے اجتماع پر فضائی حملے میں 11 افراد شہید اور 17 زخمی ہوئے۔ اسی کیمپ میں دو گھروں پر حملوں سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔جنوبی غزہ کے شہر رفح میں امداد لینے کے لیے جمع شہریوں پر اسرائیلی فائرنگ کی گئی جس میں 9 افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس میں بھی ایک فلسطینی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاں بحق ہوئے افراد شہید
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔