شادی نہیں کروں گا لیکن باپ بننا چاہتا ہوں؛ سلمان خان
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کے دبنگ اسٹار اور ہم سب کے بجرنگی بھائی، سلمان خان کو اب خواب میں ننھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔
اس بات کا انکشاف سلمان خان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کرکے ایک بار پھر مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔
سلمان خان عمومی طور پر شادی کے سوال پر ہمیشہ ایک ہی جواب دیتے ہیں یعنی “نو کمنٹس” لیکن اس بار جواب علیحدہ بھی تھا اور چونکا دینے والا بھی ہے۔
بجرنگی بھائی جان نے اعتراف کیا کہ وہ اب بھی شادی کی تمنا نہیں رکھتے لیکن باپ بننے کے خیال کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
شادی نہ ہونے سے متعلق سلمان نے بلا جھجک مان لیا کہ اگر کسی کو الزام دینا ہے تو قصوروار وہ خود ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر شادی نہ بھی ہو تو بچے ضرور ہو سکتے ہیں۔
جی ہاں! لگتا ہے کہ کنوارہ خان اب صرف کنوارہ ہی نہیں رہنا چاہتے، بلکہ “ڈیڈی خان” بننے کی تیاری میں ہیں۔
سلمان خان نے رشتوں پر اپنی فلسفیانہ رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ساتھی تیز بھاگنے لگے اور دوسرا پیچھے رہ جائے، تو یہیں سے تعلقات میں دراڑیں پڑتی ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ساتھ ساتھ بڑھو، ایک دوسرے پر بوجھ نہ بنو، ورنہ معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔